لاہور (بیورو) پنجاب حکومت نے بسنت کے موقع پر مذہبی اور سیاسی اشتعال انگیزی روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔ پچپن سال بعد لاہور میں 6 سے 8 فروری تک بسنت منائی جائے گی، اور عوامی تحفظ اور امن و امان قائم رکھنے کے لیے مختلف پابندیاں بھی لاگو کی گئی ہیں۔
پنجاب کے داخلہ محکمے کی جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے دوران ایسی پتنگوں پر مکمل پابندی ہوگی جن پر مذہبی کتابوں، مذہبی مقامات، کسی شخصیت یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصاویر درج ہوں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صرف بغیر تصاویر والی، ایک رنگ یا کثیر رنگی پتنگوں کے استعمال کی اجازت ہوگی۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے سوشل میڈیا ویب سائٹ "ایکس" پر لکھا کہ اس وقت پنجاب حکومت کو یہ خوف ہے کہ کہیں لوگ بسنت کے دن پتنگوں پر "804" اور عمران خان کی تصاویر نہ لگا دیں۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز بھی وائرل ہو رہی ہیں، جن میں عمران خان کی تصاویر والی پتنگیں فروخت ہوتے دکھائی گئی ہیں۔ پی ٹی آئی کے حامی راجا ثاقب نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوال کیا کہ "کیا اب بسنت پر بھی پابندی لگائی جائے گی؟"
اس سے قبل سوشل میڈیا پر پنجاب حکومت کے نام سے ایک اور نوٹیفکیشن وائرل ہوا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ صوبائی حکومت نے 100 سے زیادہ گانوں پر پابندی لگائی ہے۔ نوٹیفکیشن میں شامل ایک گانے میں "قیدی نمبر 804" کا ذکر بھی موجود تھا۔
تاہم، پنجاب حکومت کی ترجمان عظمیٰ زاہد بخاری نے واضح کیا کہ اس نوٹیفکیشن میں بسنت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "یہ نوٹیفکیشن اسٹیج پر پرفارم ہونے والے گانوں کے بارے میں ہے۔"
ان کا کہنا تھا کہ جن چیزوں کو گانا کہا جا رہا ہے، وہ دراصل گانوں اور شاعری دونوں کی توہین ہیں۔
0 تبصرے