"پاکستان کی طرف سے مکمل ’وار آن ٹیرر‘ کی ملکیت پچھلے دو دہائیوں میں پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف بہتر ردعمل دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی تھی" – ڈاکٹر نعیم احمد
دفاعی تجزیہ کار بریگیڈئیر (ر) احمد سعید منہاس نے خبردار کیا کہ وانا اور اسلام آباد حملے بھارت اور افغان طالبان کے باہمی تعاون کا نتیجہ ہیں، اور ملک کو سخت جواب دینے کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد کی جی الیون کچہری کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور 30 سے زائد زخمی، پولیس کے مطابق حملہ بھارتی اسپانسرڈ گروہ “فتنہ الخوارج” کی کارروائی ہے۔
پنجاب کے وسطی علاقے شدید فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہیں، ملتان، قصور، فیصل آباد اور لاہور سمیت کئی اضلاع میں فضا مضرِ صحت قرار، بھارتی علاقوں سے آنے والی آلودہ ہواؤں نے صورتحال مزید سنگین کر دی۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ افغانستان کو اپنے ساتھ ملا کر رکھتا تاکہ وہ بھارت کی طرف نہ جاتا۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت نے بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے انہیں سہولتیں فراہم کیں، جبکہ پاکستان اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی دراندازی برداشت نہیں کرے گا۔