سکھر (ویب ڈیسک) سنگرار سے 5 سال قبل اغوا ہونے والی کمسن بچی پریا کماری کے والد راج کمار نے ببرلو بائی پاس پر اعلان کردہ دھرنے سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے، جبکہ پریا رہائی ایکشن کمیٹی کی رہنما سوہنی پارس نے دعویٰ کیا ہے کہ پریا کماری کے والد پر دباؤ ہے، جس کے باعث انہوں نے ڈبرلوئی بائی پاس پر اعلان کردہ دھرنے میں شرکت سے انکار کیا ہے۔
سکھر نیشنل پریس کلب میں مکھی ایشور لال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے راج کمار نے کہا کہ پریا کماری کی بازیابی کے لیے پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں کی جاری کوششیں اطمینان بخش ہیں۔
راج کمار نے واضح کیا کہ وہ اور ان کا خاندان کل ببرلو بائی پاس پر اعلان کردہ دھرنے میں شرکت نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی غیر قانونی عمل کا حصہ بنیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں قائم کی گئی نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) میں حساس اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران بھی شامل ہیں، جس کے باعث انہیں امید ہے کہ پریا کماری کی بازیابی کے کیس میں جلد اہم پیش رفت ہوگی۔
راج کمار نے کہا کہ ان کے حوالے سے سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں غلط خبریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ وہ پاکستان چھوڑ کر بھارت جانا چاہتے ہیں، جو مکمل طور پر بے بنیاد اور حقیقت کے برعکس ہیں۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ پاکستان کے شہری ہیں، پاکستان ہی میں رہیں گے اور کسی بھی صورت بھارت منتقل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پریا کماری کی بازیابی کے لیے حکومت کی جانب سے قائم کی گئی نئی جے آئی ٹی کے ساتھ وہ اور ان کا خاندان مکمل تعاون کریں گے، تاکہ بچی کو جلد از جلد بازیاب کرا کے اس کے اہل خانہ سے ملایا جا سکے۔
راج کمار نے مزید کہا کہ پریا کماری ایکشن کمیٹی کی جانب سے ڈبرلوئی بائی پاس پر اعلان کردہ دھرنے سے ان کا یا ان کے خاندان کا کسی بھی قسم کا تعلق نہیں ہے اور وہ اس احتجاج میں شرکت نہیں کریں گے۔
انہوں نے عوام، سول سوسائٹی اور میڈیا سے اپیل کی کہ ان کے نام سے جھوٹا پروپیگنڈا، غلط خبریں اور افواہیں نہ پھیلائی جائیں۔
واضح رہے کہ پریا کماری ایکشن کمیٹی ڈبرلوئی بائی پاس پر دھرنے کا اعلان کر چکی ہے، جبکہ پریا کماری کے والد راج کمار نے اس احتجاج سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف قانونی اور آئینی طریقے سے اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب پریا رہائی ایکشن کمیٹی کی رہنما سہنی پارس نے دعویٰ کیا ہے کہ پریا کماری کے والد راج کمار پر دباؤ ہے، جس کے باعث انہوں نے ببرلو بائی پاس پر اعلان کردہ دھرنے میں شرکت سے انکار کیا ہے۔
سہنی پارس نے کہا کہ ہندو برادری خوفزدہ ہے اور ان پر مقامی بااثر افراد اور حکومت کی جانب سے دباؤ ہے، جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پریا کماری کی بازیابی کے لیے جدوجہد جاری ہے اور اس معاملے کے حوالے سے مختلف خدشات موجود ہیں۔
0 تبصرے