ایران نے امریکی حملوں کے بعد جنگ بندی کو بے معنی قرار دے دیا، پاکستان کو اب بھی مذاکرات کی امید

ایران نے امریکی حملوں کے بعد جنگ بندی کو بے معنی قرار دے دیا، پاکستان کو اب بھی مذاکرات کی امید

اسلام آباد/تہران/واشنگٹن (ویب ڈیسک) ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کے حالیہ حملوں نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کو عملی طور پر بے معنی بنا دیا ہے۔ ایک بیان میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکہ کی جانب سے کیے گئے غیر قانونی اور مجرمانہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اس کشیدگی میں اضافے کے نتائج کی ذمہ داری امریکی قیادت پر ہوگی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ بدھ کے روز جنوبی ایران میں فوجی، نگرانی اور ریڈار مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کی گئی ہے۔ ایران نے بھی بحرین، کویت اور اردن سمیت پورے خطے میں موجود امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے۔ حملوں میں حالیہ اضافے کے باوجود ایران کے تین ذرائع نے آج صبح رائٹرز کو بتایا کہ سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں اور مذاکرات منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی کے گرد گھوم رہے ہیں۔ دوسری جانب دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کرتا ہے اور دونوں فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ مذاکرات اور صبر کا راستہ اختیار کریں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو ایران-امریکہ مذاکرات کے حوالے سے اب بھی امید ہے، اگرچہ اسے درپیش چیلنجز سے بھی آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مختلف فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے اور سفارتکاری کے لیے گنجائش کم ہونے کے باوجود مثبت کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ فریقین کو امن کو ایک اور موقع دینا چاہیے۔ بریفنگ کے دوران ترجمان نے بتایا کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے حال ہی میں ایران کا دورہ کیا ہے، جبکہ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے ایران سمیت خطے کے دیگر وزرائے خارجہ سے رابطے جاری ہیں۔