خفیہ کیمروں کے ذریعے ویڈیوز بنائی گئیں, معروف بھارتی گلوکارہ کا میوزک کمپوزر پر جنسی ہراسانی کا الزام

خفیہ کیمروں کے ذریعے ویڈیوز بنائی گئیں, معروف بھارتی گلوکارہ کا میوزک کمپوزر پر جنسی ہراسانی کا الزام

چنئی (ویب ڈیسک) بھارت کی تامل میوزک انڈسٹری کی معروف گلوکارہ سواگتا ایس کرشنن نے ایک نامور میوزک کمپوزر پر جنسی ہراسانی، بلیک میلنگ اور دھمکیوں جیسے سنگین الزامات عائد کر کے ہلچل مچا دی ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 35 سالہ گلوکارہ نے ایک پوڈکاسٹ اور یوٹیوب انٹرویو میں انکشاف کیا کہ وہ چنئی چھوڑ کر رشیکیش منتقل ہونے پر اس لیے مجبور ہوئیں کیونکہ فلم انڈسٹری میں ایک بااثر میوزک ڈائریکٹر کی مبینہ ہراسانی نے ان کی زندگی کو شدید متاثر کیا۔ سواگتا کے مطابق مذکورہ کمپوزر نے خود کو ایک سرپرست اور رہنما کے طور پر پیش کیا، ان کا اعتماد حاصل کیا، جذباتی تعلق قائم کیا اور پھر اسی تعلق کا غلط استعمال کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ واقعہ کمپوزر کے ساؤنڈ پروف اسٹوڈیو میں پیش آیا، جہاں وہ خود کو محفوظ سمجھ رہی تھیں، مگر وہاں مبینہ طور پر خفیہ کیمروں کے ذریعے ویڈیوز بنائی گئیں جنہیں بعد میں بلیک میلنگ اور دھمکیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ گلوکارہ نے دعویٰ کیا کہ یہ شخص صرف اسی حد تک محدود نہیں تھا بلکہ دیگر خواتین کے ساتھ بھی اسی طرح کے عمل میں ملوث رہا، جبکہ کچھ بچوں کی خفیہ ویڈیوز بنانے جیسے نہایت سنگین دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ سواگتا کرشنن کے مطابق مذکورہ کمپوزر مالی دباؤ، قرض اور نفسیاتی کنٹرول کے ذریعے متاثرہ خواتین کو اپنے قابو میں رکھتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد انہیں بدنام کرنے، جھوٹے الزامات لگانے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، جس کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ، تنہائی اور علاج کے مرحلے سے گزریں۔ گلوکارہ اس سے قبل بھی 2022 اور 2023 میں سوشل میڈیا پر اپنے تجربات شیئر کر چکی ہیں، تاہم اب انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ قانونی کارروائی کا سنجیدگی سے ارادہ رکھتی ہیں تاکہ دیگر خواتین کو ایسی صورتحال سے بچایا جا سکے۔ اگرچہ انہوں نے تاحال مبینہ کمپوزر کا نام ظاہر نہیں کیا، لیکن ان کے الزامات نے تامل انڈسٹری میں تہلکہ مچا دیا ہے۔