حیدرآباد اسٹیج کو خیال خان کی صورت میں ایک باصلاحیت پروڈیوسر اور ڈائریکٹر مل گیا، سلیم آفریدی کی اداکاری نے معین اختر کی یاد تازہ کر دی
کراچی (کلچرل رپورٹر) "وہ آیا اور چھا گیا" کے مصداق اسٹیج ڈراموں میں مختلف کردار ادا کرنے والے فنکار خیال خان نے بطور ڈائریکٹر اپنے پہلے ہی اسٹیج پلے "سلیم کا تماشہ" کو اس مہارت اور اعتماد کے ساتھ پیش کیا کہ شائقین پورے کھیل کے دوران کسی لمحے بھی بوریت یا اکتاہٹ کا شکار نہ ہوئے۔ خیال خان، جو اس کھیل کے پروڈیوسر بھی ہیں، انہوں نے پروڈکشن کے ہر شعبے میں اعلیٰ معیار برقرار رکھتے ہوئے ثابت کر دیا کہ وہ مستقبل میں حیدرآباد اسٹیج کے نمایاں اور کامیاب پروڈیوسر و ڈائریکٹر بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
معروف فنکار اور مصنف سلیم آفریدی کے تحریر کردہ اس کھیل کا اسکرپٹ ایک منفرد اور جاندار کہانی پر مبنی تھا، جس میں طنز و مزاح کی چاشنی سے بھرپور مکالموں نے شائقین کو مسلسل محظوظ کیے رکھا۔ سلیم آفریدی نے طویل عرصے بعد حیدرآباد اسٹیج پر بھرپور واپسی کرتے ہوئے پرویز مشرف، راحت اندوری، پی کے اور جون ایلیا سمیت مختلف کرداروں کو نہایت مہارت سے نبھایا۔ ان کی بہترین باڈی لینگویج، مؤثر فیشل ایکسپریشنز اور جاندار ڈائیلاگ ڈلیوری نے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔
سلیم آفریدی کی شاندار اور آؤٹ اسٹینڈنگ پرفارمنس نے حاضرین کو پاکستان کے عظیم فنکار معین اختر کی یاد دلا دی۔ ناقدین کے مطابق عرصہ دراز بعد اسٹیج پر ایسی ہمہ جہت اداکاری دیکھنے کو ملی جس میں ایک فنکار مختلف کرداروں میں مکمل طور پر ڈھلتا ہوا نظر آیا۔
کراچی اسٹیج کے معروف اداکار سلیم شیخ نے بھی اپنے کردار کو بھرپور توانائی اور مہارت کے ساتھ نبھاتے ہوئے شائقین سے بھرپور داد سمیٹی۔ اسی طرح سپنا غزل اور مہک نور نے اپنے وسیع تجربے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرداروں کے ساتھ مکمل انصاف کیا اور بھرپور اعتماد کے ساتھ پرفارم کیا۔
فنکارہ شمائل خان نے اپنی عمدہ اداکاری اور کامیڈی ٹائمنگ سے حاضرین کو خوب محظوظ کیا جبکہ ان کی ڈانس پرفارمنس بھی پسند کی گئی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والے فنکار گلزار چانڈیو نے بھی بھرپور اعتماد کے ساتھ اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور اپنی کارکردگی سے داد حاصل کی۔
حیدرآباد کے فنکار راجہ بابو اور انوشہ نے اپنی شاندار ڈانس پرفارمنس کے ذریعے پروگرام کے حسن میں اضافہ کیا اور حاضرین کی توجہ حاصل کی۔ کھیل کی ایک نمایاں خصوصیت بہترین ساؤنڈ اور مائیک سسٹم بھی تھا، جس کی بدولت کالر مائیک کے بغیر بھی فنکاروں کے مکالمے واضح طور پر سامعین تک پہنچتے رہے۔
ڈرامہ "سلیم کا تماشہ" ولگریٹی سے پاک، معیاری اور صاف ستھرا طنز و مزاح پیش کرنے والا ایک کامیاب اسٹیج کھیل ثابت ہوا، جسے بہترین اسکرپٹ، شاندار پروڈکشن، اعلیٰ ڈائریکشن اور فنکاروں کی جاندار پرفارمنس کے باعث شائقین طویل عرصے تک یاد رکھیں گے۔
ڈرامے میں سلیم آفریدی، سلیم شیخ، سپنا غزل، مہک نور، شمائل خان، گلزار چانڈیو، راجہ بابو، انوشہ اور دیگر فنکاروں نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، جبکہ ڈرامے کے پروڈیوسر و ڈائریکٹر خیال خان تھے۔ اس موقع پر میڈیا کوآرڈینیٹر وسیم قریشی نے کہا کہ معیاری اور خاندانی تفریح پر مبنی اسٹیج ڈراموں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے اور "سلیم کا تماشہ" اسی روایت کو آگے بڑھانے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔
0 تبصرے