علاقے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے بعد امریکی بحریہ نے ایران کے قریب اپنے دو طیارہ بردار جنگی بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش تعینات کر دیے ہیں۔
سمندری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق یہ دونوں جنگی بحری جہاز گزشتہ روز خلیجِ عمان میں داخل ہوئے۔
نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز کے اطراف سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا اور ضرورت پڑنے پر تہران پر دباؤ بڑھانا ہو سکتا ہے۔
یہ تعیناتی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اس اہم سمندری گزرگاہ کے ذریعے ہوتی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت دوبارہ شدت اختیار کر گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، اگرچہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
اس کے بعد امریکہ نے ایران پر خطے میں تین آئل ٹینکروں پر حملوں کا الزام عائد کیا اور ایرانی فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے۔
جواباً ایران نے دو روز قبل خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ اور جمعرات کو ایران کے چھ شہروں میں ہونے والے امریکی حملوں میں تقریباً 17 افراد ہلاک ہوئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے بیس سے زائد جنگی بحری جہاز تعینات کر دیے ہیں۔
سینٹ کام کے مطابق بحری قوت میں اس اضافے کا مقصد خطے کی سلامتی کو مضبوط بنانا اور استحکام برقرار رکھنا ہے۔
سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی بحریہ کے بیس سے زائد جنگی بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ کے مختلف سمندری علاقوں میں گشت کر رہے ہیں، جبکہ سینٹ کام کی افواج خطے میں سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے کے مشن پر عمل پیرا ہیں۔
جب سینٹ کام سے پوچھا گیا کہ آیا یہ تعیناتی ایران کی معیشت کو ماضی میں نقصان پہنچانے والی ممکنہ بحری ناکہ بندی سے متعلق ہے تو اس نے آپریشنل معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ تاہم دونوں طیارہ بردار جنگی بحری جہاز ایران کے میزائلوں کی ممکنہ مار کی حدود میں دیکھے گئے ہیں، جس کے باعث ان کے لیے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔
فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے سینئر فیلو اور ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل مارک مونٹگمری نے نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوجی دستوں کی نقل و حرکت معمول کا حصہ ہوتی ہے، تاہم جب طیارہ بردار بحری جہازوں کو بحری ناکہ بندی یا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں کے تحفظ کے لیے تیار کیا جاتا ہے تو وہ عموماً ایرانی سمندری حدود کے زیادہ قریب آ جاتے ہیں۔
امریکی بحریہ کی موجودگی میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ کی خصوصی توجہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے پر مرکوز ہے تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔ نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات سے قبل یہ معاملہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب قطر کا ایک وفد تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں گزشتہ روز ایران میں مذاکرات مکمل کرنے کے بعد واپس روانہ ہو گیا، جبکہ ایرانی حکام ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کے لیے آج عمان روانہ ہوں گے۔
0 تبصرے