نوشہروفیروز میں مورو کے رہائشی ماں بیٹے کا پولیس کے خلاف احتجاج، دو بھائیوں کو زبردستی اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کا الزام

نوشہروفیروز میں مورو کے رہائشی ماں بیٹے کا پولیس کے خلاف احتجاج، دو بھائیوں کو زبردستی اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کا الزام

نوشہروفیروز (ڈ ر) نوشہروفیروز میں مورو کے رہائشی نوجوان صدام وسطڑو نے اپنی والدہ امینہ وسطڑو کے ہمراہ پریس کلب نوشہروفیروز پہنچ کر پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا اور میڈیا کے سامنے فریاد کی۔ صدام وسطڑو نے الزام عائد کیا کہ تھارو شاہ تھانے کے ایس ایچ او غلام قادر گورچانی گزشتہ رات بھاری پولیس نفری کے ہمراہ ان کے گھر پر چڑھ دوڑے، گھر کے دروازے توڑ کر زبردستی داخل ہوئے اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے گھر میں لوٹ مار کرنے کے بعد خواتین اور بچوں پر تشدد بھی کیا۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ پولیس کارروائی کے دوران ان کے دو بھائیوں، وحید وسطڑو اور سعید وسطڑو کو زبردستی اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جن کا تاحال کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ صدام وسطڑو نے مطالبہ کیا کہ اس سنگین واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ مورو کی المصطفیٰ کالونی کے رہائشی ہیں اور ایس ایچ او غلام قادر گورچانی بااثر افراد کے کہنے پر انہیں اور ان کے والد اصغر وسطڑو کو ہراساں کر رہا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 20 روز قبل مٹھیاڻي تھانے میں ان پر اور ان کے والد پر جعلی پولیس مقابلے کا مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد چار لاکھ روپے لے کر انہیں رہا کیا گیا۔ صدام وسطڑو نے الزام لگایا کہ اب ایک بار پھر ان کے دو بھائیوں کو اغوا کیا گیا ہے اور پولیس کی جانب سے مزید پانچ لاکھ روپے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جو کہ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا اپنے رشتہ داروں کے ساتھ تنازع چل رہا ہے اور اسی تنازع کی بنیاد پر ایس ایچ او کی جانب سے جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔ ماں بیٹے نے سیشن جج اور ایس ایس پی نوشہروفیروز سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں، اغوا کیے گئے دونوں بھائیوں کو بازیاب کرایا جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔