کراچی کے مصروف گل پلازہ شاپنگ پلازہ پر 17 جنوری 2026 کی رات لگنے والی بھیانک آگ نے شہر کو صدمے میں مبتلا کر دیا۔ یہ واقعہ شہر کے ایم اے جناح روڈ پر پیش آیا جہاں ملک کے سب سے بڑے تجارتی مراکز میں سے ایک واقع ہے۔
گل پلازہ میں لگنے والی آگ رات تقریباً 10:15 بجے شروع ہوئی اور 24 گھنٹے سے زائد عرصے تک بھڑکتی رہی، جس کی وجہ سے پوری عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور آگ پر قابو پانے میں فائر بریگیڈ کی ٹیموں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اس بھیانک آتشزدگی میں ہلاکتیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق آگ کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ کئی خاندان اپنے پیاروں کی اطلاع کے لیے بے چین ہیں۔
معمولی طور پر 1,200 سے زائد دکانیں اس تجارتی پلازہ میں تھیں جن میں کپڑے، گھریلو سامان، کاسمیٹکس اور دیگر اشیاء رکھی ہوئی تھیں جنہوں نے آگ کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دی۔
فائر فائٹرز، ریسکیو 1122 اور دیگر ایمرجنسی ٹیموں نے مل کر آگ بجھانے اور متاثرین کی مدد کرنے کی کوشش کی، مگر شدید دھواں، ملبے کا خطرہ اور خطرناک حالات نے تلاش و بچاؤ کے کام کو مشکل بنا دیا۔ کئی مقامات پر عمارت کے حصے منہدم ہو گئے، جس سے ریسکیو ٹیموں کا کام دشوار ہوا۔
ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ آگ ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ یا برقی نظام کی خرابی کے سبب پھٹی، جس نے فوری طور پر شاپنگ سینٹر میں رکھی ہوئی جلیمی اور آسانی سے جلنے والی اشیاء کو بھڑکا دیا۔ رسمی انکوائری ابھی بھی جاری ہے۔
سندھ حکومت نے ایک تفتیشی کمیٹی قائم کی ہے جو سانحے کے اسباب اور حفاظتی غفلت کے پہلوؤں کی جانچ کر رہی ہے۔ کراچی کمشنر اور اعلیٰ پولیس حکام اس تحقیقاتی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔
شہر بھر میں لوگ سانحے پر غمزدہ ہیں۔ متاثرین کے لواحقین اور تاجروں نے حکومتی امداد کی درخواستیں کی ہیں کیونکہ ہزاروں افراد اپنے کاروبار، روزگار اور مال و جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ تجارتی تنظیمیں اور سماجی تنظیمیں متاثرین کی مدد کے لیے آگے آئی ہیں۔
سانحے نے ایک بار پھر کراچی میں حقیقی فائر سیفٹی نظام کی عدم دستیابی، بلڈنگ کوڈز کی خلاف ورزی، ایمرجنسی ایکشن پلان کی کمی اور حفاظتی تربیت کی کمی جیسے مسائل کو نمایاں کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں نقصان کو کم کرنے کے لیے مناسب آگ بجھانے کے نظام، ایگزٹ راستوں اور سخت حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔
گل پلازہ کراچی کی تاریخ کا ایک دردناک اور المناک سانحہ ہے، جس نے نہ صرف بے شمار زندگیوں اور روزگار کو نقصان پہنچایا بلکہ شہریوں کے دلوں میں تحفظ کے فقدان کو بھی اجاگر کیا۔ اس سانحے سے یہ سبق ملتا ہے کہ فائر سیفٹی، بہتر حکومتی نگرانی اور عوامی شعور وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ دوبارہ ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔
0 تبصرے