نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز (نیما) نے 12 فروری2026 کو کراچی میں “پاکستان کی ماہی گیری اور آبی زراعت: موجودہ صورتحال، درپیش مسائل اور مستقبل کی راہیں” کے موضوع پر ایک قومی سطح کا ویبینار و سیمینار منعقد کیا۔
اس اہم تقریب میں قانون ساز اداروں کے نمائندگان، ماہرینِ صنعت اور ملک بھر سے صوبائی محکمہ ماہی گیری کے نمائندگان نے شرکت کی، جہاں ماہی گیری اور آبی زراعت کے شعبے کی موجودہ کیفیت اور مستقبل کے امکانات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
تقریب کا آغاز ڈائریکٹر نیما کراچی، کموڈور ایم مسعود اکرم، ستارۂ امتیاز (ملٹری)، ستارۂ بسالت کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ انہوں نے پاکستان کی بحری معیشت میں ماہی گیری کے شعبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے مربوط قانون سازی، جدید آبی زراعتی طریقوں کے فروغ اور بین الصوبائی ہم آہنگی کو ناگزیر قرار دیا۔
سیمینار میں وفاقی و صوبائی محکمہ ماہی گیری، جامعات اور صنعت سے تعلق رکھنے والے ممتاز مقررین نے شرکت کی۔ نمایاں مقررین میں ڈاکٹر وسیم خان (سابق ڈائریکٹر جنرل، میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ، وزارتِ بحری امور)، مسٹر اکرام حسین (ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز، گلگت بلتستان)، ڈاکٹر ایم عابد (ڈائریکٹر فشریز، پنجاب)، مسٹر نور الٰہی (ماہرِ مضمون)، ڈاکٹر عبداللطیف کورائی (ڈائریکٹر فشریز، ڈائریکٹوریٹ جنرل فشریز سندھ اندرونِ آب)، مسٹر ظفراللہ جٹک (اسسٹنٹ پروفیسر، لسبیلہ یونیورسٹی بلوچستان)، ڈاکٹر شہزاد نوید (چیف ایگزیکٹو آفیسر، آل ٹیک کمپنی)، مسٹر سعد یوسف (چیف آپریٹنگ آفیسر، دھابیجی ایکوا فوڈ کمپنی)، مسٹر سخی زمان (ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز، آزاد جموں و کشمیر) اور ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن کلہوڑو (چیف لائیوسٹاک و فشریز سیکشن، محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات حکومتِ سندھ) شامل تھے۔
مباحثوں میں سمندری وسائل میں کمی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، پائیدار آبی زراعت کی ترقی، قدر افزائی کے نظام کی جدید کاری، برآمدات میں اضافہ اور صوبوں کے مابین قانون سازی میں ہم آہنگی جیسے اہم مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔
شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ شعبے کی معاشی استعداد کو بروئے کار لانے کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے، جدید ہیچری ٹیکنالوجی اپنائی جائے اور قواعد و ضوابط پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
سیمینار میں مسز الماس قاسمانی، بانی سالٹ واٹر مرینا پرائیویٹ لمیٹڈ، کی خصوصی شرکت بھی ہوئی جو مینگرووز کے تحفظ کی پُرجوش علمبردار ہیں۔ ان کی خدمات کو حاضرین نے سراہا اور صدر نیما کی جانب سے ان کی کاوشوں کے اعتراف میں انہیں تعریفی سند بھی پیش کی گئی تاکہ وہ دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن سکیں۔
تقریب کا اختتام صدر نیما، ریئر ایڈمرل جاوید اقبال، ہلالِ امتیاز (ملٹری) کے اختتامی کلمات پر ہوا۔ انہوں نے باہمی اشتراک پر مبنی حکمرانی، تحقیق پر مبنی قانون سازی اور پائیدار وسائل کے انتظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے پاکستان کا ماہی گیری اور آبی زراعت کا شعبہ قومی معیشت اور غذائی تحفظ میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔
ویبینار و سیمینار نے پاکستان کے بحری معیشت کے نظریے کے تحت بحری تحقیق، قانون سازی سے متعلق مکالمے اور استعداد کار میں اضافے کے فروغ کے لیے نیما کے عزم کا اعادہ کیا۔
0 تبصرے