ڈاکٹر قادر مگسی نے ایس ٹی پی بدین کے صدر شاہنواز سیال کے قریبی رشتہ دار کے انتقال پر تعزیت کی
بدین، رپورٹر
سندھ ترقی پسند پارٹی (ایس ٹی پی) کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے ایس ٹی پی بدین کے صدر شاہنواز سیال کے قریبی رشتہ دار کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں دہشت گردی عروج پر ہے، نہ مسجد محفوظ ہے، نہ مدرسہ، نہ پارک، نہ گھر اور نہ ہی امام بارگاہیں محفوظ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آدمی گھر سے نکلتا ہے تو موبائل چھیننے کے دوران لاش بن کر واپس آتا ہے، ایسے حالات میں عوام دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں۔
ڈاکٹر قادر مگسی کا کہنا تھا کہ حکومتی جماعتیں صرف لوٹ مار میں لگی ہوئی ہیں اور اپنے پیٹ بھرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے ججوں کو خرید کر پارلیمنٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ اپوزیشن ملک کے بجائے عمران خان کو بچانے میں مصروف ہے۔
کینالوں کے معاملے پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کینالوں کے خلاف ہماری جاری بڑی تحریک کو ہائی جیک کر لیا گیا ہے اور کالے کوٹ والوں کے ادھورے فیصلوں نے اس تحریک کو سبوتاژ کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم ایک طرف دریائے سندھ کے پانی اور دوسری طرف سندھ کی قومی وحدت پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، آخری حد تک، مرنے مارنے کی حد تک جدوجہد کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اب بھی وفاقی حکومت نے کینال بنا کر پانی چوری کرنے کی کوشش کی تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے الزام لگایا کہ بدین سمیت پورے سندھ میں منشیات کی سرپرستی ایم پی ایز اور ایم این ایز کر رہے ہیں، یہی لوگ اس گندے دھندے میں ملوث ہیں اور ڈاکوؤں کی بھی سرپرستی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس صرف اپنا دھندا کر رہی ہے، کیلاش کولہی کے قتل سمیت دیگر واقعات میں لوگوں کو انصاف کے لیے ہزاروں افراد کو کئی کئی دن اور راتیں سڑکوں پر دھرنے دینے پڑتے ہیں، حتیٰ کہ مقدمہ درج کرانے کے لیے بھی احتجاج کرنا پڑتا ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ لوگ اغوا ہو رہے ہیں، سندھ کی بیٹیاں اغوا کی جا رہی ہیں، لیکن پولیس کے ایس ایچ اوز منشیات فروشوں کی پہرہ داری میں لگے ہوئے ہیں۔ چور اور چوکیدار سب ملے ہوئے ہیں اور غریب عوام سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں گزشتہ دس برسوں سے کوشش کر رہا ہوں کہ قوم پرست پارلیمانی جماعتوں کو اکٹھا کر کے ایک ہی انتخابی نشان پر الیکشن لڑا جائے، مگر کچھ قوم پرست پیر پگاڑا کے کندھے پر ہیں اور کچھ عمران خان کے کندھے پر سوار ہیں، وہی انہیں آپس میں لڑوا رہے ہیں۔ شاید انہیں خود پر اعتماد نہیں، تاہم ڈاکٹر قادر مگسی آج بھی اکیلے میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں، اللہ کامیاب کرے گا۔
اس موقع پر سندھ ترقی پسند پارٹی کے کارکنوں اور شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
0 تبصرے