کراچی: گل پلازا میں فائر بریگیڈ اور ریسکیو اہلکاروں کی کارروائیاں جاری ہیں، جہاں عمارت کی دو منزلوں کو کلیئر کر لیا گیا ہے۔
کراچی کے ضلع جنوبی کے ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ آگ سے متاثرہ گل پلازا کے گراؤنڈ فلور اور پہلی منزل کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری اور تیسری منزل میں داخل ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کٹر کی مدد سے گرلز کاٹی جا رہی ہیں۔
ڈی سی کے مطابق لاپتا افراد کی تعداد 81 ہو گئی ہے، جبکہ کچھ نام دوبارہ شامل ہوئے ہیں۔ فی الحال 74 لاپتا افراد کی تصدیق ہو چکی ہے۔
دوسری جانب پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق اب تک 27 لاش سول اسپتال کراچی منتقل کیے جا چکے ہیں۔ 14 لاشوں کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں، جن میں سے 7 لاشوں کی شناخت کا عمل مکمل ہو چکا ہے، جبکہ ساتویں لاش کی شناخت قومی شناختی کارڈ کے ذریعے ممکن ہوئی۔
پولیس سرجن کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت کے لیے 50 لواحقین کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں، تمام نمونے سندھ فارنزک ڈی این اے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔ ڈی این اے ٹیسٹ انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بایولوجیکل سائنسز، جامعہ کراچی میں کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ جائے وقوعہ سے کچھ انسانی اعضا بھی لائے گئے ہیں جن پر کام جاری ہے۔
متاثرہ دکانداروں کے مطابق عمارت میں آمد و رفت کے کُل 26 دروازے تھے، تاہم رات 10 بجے تمام گیٹس بند کر دیے جاتے تھے اور صرف دو دروازے کھلے رکھے جاتے تھے۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ عمارت میں کوئی ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں تھا اور آگ انتہائی تیزی سے پھیل گئی۔
انہوں نے بتایا کہ افسوسناک واقعے کے وقت عمارت میں موجود افراد کو معمول کے مطابق 26 میں سے 24 دروازے بند ملے، کوئی ایمرجنسی ایگزٹ نہیں تھا اور پوری مارکیٹ دھوئیں سے بھر گئی تھی۔
دکانداروں کے مطابق آگ لگنے کے وقت بجلی بند تھی، کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا اور کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ بھگدڑ اور دھوئیں کے باعث عمارت میں پھنسے افراد کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا تھا۔ واقعے کے وقت دکانوں پر ورکرز اور گاہک موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کے کچھ دیر بعد چند افراد بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے، جبکہ متعدد افراد کو دکانداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت عمارت سے باہر نکالا۔
0 تبصرے