اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے: سعودی عرب، قطر اور عمان کی وارننگ

اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے: سعودی عرب، قطر اور عمان کی وارننگ

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی ممالک نے ایران پر امریکی حملے کی مخالفت کر دی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، قطر اور عمان نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملہ نہ کیا جائے، کیونکہ ایسی کارروائی سے عالمی تیل منڈی کو شدید نقصان پہنچے گا اور اس کا براہِ راست اثر امریکی معیشت پر بھی پڑے گا۔ اخبار کے مطابق بظاہر یہ عرب ممالک خاموش نظر آتے ہیں، تاہم پس پردہ لابنگ کر رہے ہیں تاکہ امریکا ایران پر حملہ نہ کرے، کیونکہ اس اقدام سے عالمی تیل مارکیٹ متاثر ہوگی اور لازمی طور پر امریکی معیشت بھی دباؤ کا شکار ہو جائے گی۔ اخبار کے مطابق سعودی حکام نے تہران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کسی بھی تنازع میں شامل نہیں ہوں گے اور امریکا کو ایران پر حملے کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ قدم امریکی کارروائی سے خود کو الگ رکھنے اور اسے روکنے کی کوشش کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق عرب ریاستوں کو خدشہ ہے کہ ایران پر حملے کی صورت میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کے ٹینکروں کی آمد و رفت متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ تنگ سمندری گزرگاہ خلیج فارس کے دہانے پر واقع ہے، جو ایران کو اس کے عرب ہمسایوں سے جدا کرتی ہے، اور دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے تاحال واضح نہیں کیا کہ ایران کے خلاف کس نوعیت کی فوجی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ حملے کا امکان موجود ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ایران کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صدر ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں، وہ مختلف آرا سن رہے ہیں اور آخر میں وہی فیصلہ کریں گے جو وہ خود بہتر سمجھیں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے براہِ راست ایران میں احتجاج کرنے والوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حکومت کی جانب سے احتجاج دبانے کی کوششوں کی مخالفت کریں اور ریاستی اداروں پر قبضہ کریں، مدد آنے والی ہے۔