حیدرآباد: سافکو گروپ نے نئے سال 2026 کی تقریب کا اہتمام کیا، جس میں سماجی و مالیاتی خدمات سمیت مختلف شعبوں میں سافکوکی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد نئے سال کے اہداف کا خاکہ پیش کیا گیا۔ اس دوران سافکو قیادت نے سال 2025 کو سافکو کی عالمی پذیرائی کا سال قرار دیتے ہوئے رواں سال تندہی کے ساتھ مزید کوششیں کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
سال نو کی تقریب سافکو ہیڈ آفس حیدرآباد میں منعقد کی گئی، جسے خطاب کرتے ہوئے سافکو گروپ کے بانی اور سی ای او ڈاکٹر سلیمان جی ابڑو نے سب کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سال 2025 کے دوران عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظرسافکو نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے، خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے اور زراعت، لائیو سٹاک اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ لوگوں کی خوشحالی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اقدامات بڑھائے جس پر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے ایوارڈز سے نوازا جو کہ تمام عملے کی مشترکہ محنت اور لگن کا نتیجہ ہیں۔
ڈاکٹر ابڑو نے پورے جنوبی ایشیا میں معاشی ترقی میں خواتین کے اہم کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ بنگلہ دیش، بھارت اور نیپال جیسے ممالک میں خواتین کی مزدوری کی شرح 30 اور 45 فیصد کے درمیان ہے، پاکستان بدستور پیچھے ہے۔ انہوں نے خواتین کی افرادی قوت کی شرکت کو 21 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد سے زیادہ کرنے میں بنگلہ دیش کی کامیابی کا حوالہ دیا، جس میں بڑے پیمانے پر ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے میں 30 لاکھ سے زائد خواتین کو ملازمت دی گئی ہے، اور زور دیا کہ پاکستان بھی سماجی تحفظ، مالیاتی رسائی اور معاون پالیسیوں کے ذریعے خواتین کاروباریوں کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کرے۔
سلیمان جی ابڑو نے مکیش امبانی، سر ہنری فورڈ، لی بنگ چُل اور دیگر شخصیات کی مثالیں دیتے ہوئے سلیمان جی ابڑو نے کہا کہ دنیا کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ادارے بنانے اور ان کو وسعت دینے کا عظیم کام اس طرح کیا جانا چاہیے جس سے نسلوں کو فائدہ پہنچے، تب ہی آپ کا علم اور عمل مفید ثابت ہوگا۔ اس لیے ہم سافکو کے تمام شعبوں کے لیے مرحلہ وار حکمت عملی بنائیں گے اور اس پر عمل درآمد کریں گے جس میں خواتین کے لیے زیادہ مواقع پیدا کرں گے۔
سافکو مائیکرو فنانس کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر سید سجاد علی شاہ نے کہا کہ چیلنجز کا سامنا کیا لیکن اس کے باوجود سال 2025 سافکو کے تینوں اداروں کے لیے اچھا ثابت ہوا ہے۔ قومی سطح کے مختلف فورمز میں مالیاتی اور ماحولیاتی پالیسیوں پر مشاورت میں سافکو کو اہمیت حاصل رہی۔ وفاقی وزارت خزانہ ہو یا سٹیٹ بنک، ہماری آواز کی بھرپور ترجمانی ہوئی اور ہم نے عالمی سطح کے مختلف فورمز پر بھی خود کو اچھی طرح سے منوایا ہے۔
اس موقع پر بشیر احمد ابڑو، ذیشان میمن، علینہ سومرو، ہریش کمار، رمیز اقبال میمن، فلک علی، واجد حسین جونیجو، حبیب اللہ خلجی اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آخر میں نئے سال کا کیک کاٹا گیا.
0 تبصرے