کراچی (ویب ڈیسک) سندھ یونائیٹڈ لائرز فورم کی جانب سے ’’سندھ کو درپیش آئینی، معاشی اور آبی چیلنجز‘‘ کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں قانونی، سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے سندھ کی تقسیم کی تجویز، وفاقی وزیر اور پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کے بیانات اور سندھ کے وسائل سے متعلق کیے جانے والے فیصلوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ پی سی بی چیئرمین ملک کو کرکٹ کی طرح سمجھ رہے ہیں، صوبوں کو تقسیم کرنے جیسے غیر سنجیدہ اور نئے تجربات نہ کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم جیسے غیر سوچے سمجھے تجربات سے گریز کرنا چاہیے۔
عبدالحسیب جمالی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ نے پاکستان بنانے میں اہم اور بنیادی کردار ادا کیا ہے، لہٰذا سندھیوں کے آئینی اور تاریخی کردار کی قدر کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ کا بنیادی مسئلہ گڈ گورننس ہے، صوبے کی تقسیم اس کا حل نہیں۔
عبدالوهاب شر نے کہا کہ قومی اسمبلی کو بھی صوبوں کی تقسیم کا کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ نے سب کو اپنا بنایا ہے، لیکن اب یہاں ہونے والی سازشوں کا خاتمہ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے عوام نے صوبے کی تقسیم کے خیال کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔
سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے مرکزی صدر سید زین شاہ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی تقسیم کا معاملہ انتہائی اہم اور نازک ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے سمندر، زرعی زمین، کوئلے، گیس اور دریاؤں کے حوالے سے براہِ راست یا بالواسطہ سودے ہوچکے ہیں، جن کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔
معروف ماہرِ معاشیات قیصر بنگالی نے کہا کہ سندھ کو اسلام آباد کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر آنکھیں کھول کر نظر رکھنا ہوگی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی ایسے معاہدے پر بغیر سوچے سمجھے اعتماد نہ کیا جائے، جس پر مستقبل میں پچھتانا پڑے۔
وکیل رہنما عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کے خلاف صوبے کے مختلف اضلاع میں عوام کو متحد ہوکر اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
0 تبصرے