مزدوری کیلئے جانے والا نوجوان ڈھائی ماہ سے لاپتہ، اہلخانہ کا بازیابی کا مطالبہ

اہلخانہ نوجوان کی سلامتی کے حوالے سے شدید پریشانی اور ذہنی کرب میں مبتلا

مزدوری کیلئے جانے والا نوجوان ڈھائی ماہ سے لاپتہ، اہلخانہ کا بازیابی کا مطالبہ

اسلام آباد(سٹی رپورٹر)خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر اورکزئی کے علاقے خواہ درہ کا رہائشی 28 سالہ عمر فاروق ولد محمد صادق گزشتہ ڈھائی ماہ سے لاپتہ ہے، جس کے باعث اس کے اہلخانہ شدید پریشانی اور ذہنی کرب میں مبتلا ہیں۔ اہلخانہ کے مطابق وہ اپنے لاپتہ ساتھی عبدالوھاب ولد خان محمد کے ہمراہ مزدوری کے سلسلے میں لاہور گیا تھا، جہاں دونوں نے تقریباً 15 روز تک کام کیا، تاہم اس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔اہلخانہ کے مطابق عمر فاروق لاہور میں جس دکان پر مزدوری کر رہا تھا، اس کے مالک نے انہیں بتایا کہ عمر فاروق نے تقریباً 15 روز بعد کام سے چھٹی لی اور اپنے گاؤں جانے کے لیے روانہ ہوگیا تھا، تاہم ڈھائی ماہ گزرنے کے باوجود وہ گھر نہیں پہنچا اور نہ ہی اس سے کسی قسم کا رابطہ ہو سکا ہے۔لواحقین کا کہنا ہے کہ انہوں نے عمر فاروق کی ہر ممکن تلاش کی، مگر تاحال اس کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔ ان کے مطابق عمر فاروق کے موبائل فون کی آخری لوکیشن ملتان میں ٹریس ہوئی تھی، تاہم اب اس کا موبائل فون بھی بند جا رہا ہے، جس سے اہلخانہ کی تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔اہلخانہ نے بتایا کہ عمر فاروق کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے اور وہ روزگار کے سلسلے میں لاہور گیا تھا۔ طویل عرصے سے اس کی کوئی خبر نہ ملنے کے باعث گھر میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور والدین و دیگر اہلخانہ اس کی سلامتی کے حوالے سے سخت پریشان ہیں۔اہلخانہ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ عمر فاروق اور اس کے ساتھی عبدالوھاب کی گمشدگی کا فوری نوٹس لیا جائے، متعلقہ اداروں کو ان کی تلاش اور بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی جائے اور دونوں نوجوانوں کو جلد از جلد بازیاب کرا کے اہلخانہ کی پریشانی ختم کی جائے۔لواحقین نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ نوجوانوں کا سراغ لگانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور انہیں بحفاظت اہلخانہ تک پہنچایا جائے۔