ببرلوءِ میں پولیس ایکشن کے خلاف وکلا برادری بھی سراپا احتجاج، سندھ بار کونسل کا عدالتی کارروائیوں کے بائیکاٹ کا اعلان

ببرلوءِ میں پولیس ایکشن کے خلاف وکلا برادری بھی سراپا احتجاج، سندھ بار کونسل کا عدالتی کارروائیوں کے بائیکاٹ کا اعلان

کراچی (ویب ڈیسک) سندھ بار کونسل نے پریا کماری اور سندھ کے دیگر مغوی بچوں کی بازیابی میں ناکامی اور ببرلوءِ بائی پاس پر پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف پولیس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کل 24 جولائی کو پورے سندھ میں عدالتی کارروائیوں کے بائیکاٹ (ہڑتال) کا اعلان کر دیا ہے۔ سندھ بار کونسل کے وائس چیئرمین بیرسٹر اشتیا ق احمد میمن اور ایگزیکٹو کمیٹی کے قائم مقام چیئرمین عبدالرزاق مہر نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پریا کماری اور دیگر مغوی بچوں کی کئی برس گزرنے کے باوجود بازیابی نہ ہونا انتہائی تشویش ناک معاملہ ہے، جبکہ متعلقہ ادارے ان کی محفوظ بازیابی یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ بیان میں ببرلوءِ بائی پاس پر پریا کماری اور دیگر مغوی بچوں کی بازیابی کے لیے جاری پرامن دھرنے پر رات گئے پولیس کارروائی کی بھی سخت مذمت کی گئی۔ بار کونسل کے مطابق متعدد احتجاجی مظاہرین، جن میں خواتین بھی شامل ہیں، کو کسی قانونی کارروائی یا ایف آئی آر کے بغیر گرفتار کیا گیا۔ سندھ بار کونسل نے وفاقی حکومت، سندھ حکومت، وفاقی وزیر قانون، آئی جی سندھ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ پریا کماری اور دیگر مغوی بچوں کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، گرفتار احتجاجی مظاہرین کی تفصیلات ظاہر کی جائیں، انہیں قانونی حقوق فراہم کیے جائیں، غیر قانونی طور پر گرفتار تمام افراد کو رہا کیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ سندھ بار کونسل نے اعلان کیا ہے کہ متعلقہ اداروں کی مسلسل ناکامی کے خلاف احتجاج کے طور پر جمعہ 24 جولائی کو پورے سندھ میں عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا جائے گا، جبکہ صوبے کی تمام بار ایسوسی ایشنز اور وکلا برادری سے ہڑتال میں بھرپور شرکت کی اپیل بھی کی گئی ہے۔