"ہم سندھ میں رہتے ہیں، جئے سندھ ضرور کہیں گے" ناہید پروین کا کراچی یونیورسٹی میں سندھی طلبہ پر حملہ کرنے والوں کو جواب

سیکیورٹی اہلکار واقعے کی جگہ پر تاخیر سے پہنچے، جس کے باعث صورتحال مزید خراب ہوگئی

کراچی: کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ سندھی کی چیئرپرسن ناہید پروین نے کہا ہے کہ تعلیمی ادارے میں دو طلبہ گروپوں کے درمیان ہونے والے تصادم کے دوران انہیں بھی چوٹیں آئیں، تاہم انہیں اپنے زخمی ہونے سے زیادہ اپنے لہولہان طلبہ کی فکر تھی۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکار واقعے کی جگہ پر تاخیر سے پہنچے، جس کے باعث صورتحال مزید خراب ہوگئی۔ ناہید پروین کے مطابق یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک ہی دن میں سندھی طلبہ پر تین مرتبہ حملے کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کا کہنا تھا کہ وہ طلبہ کو نہیں چھوڑیں گے، کیونکہ وہ "جئے سندھ" کے نعرے لگا رہے تھے۔ ناہید پروین نے کہا کہ انہوں نے اپنے طلبہ کو بچاتے ہوئے کہا، "ہم سندھ میں رہتے ہیں، سندھی ہیں، جئے سندھ ضرور کہیں گے۔" انہوں نے مزید کہا کہ کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ سندھی پر یہ پہلا حملہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی ایسے واقعات اور حملے ہوتے رہے ہیں۔