موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں حکومت ناکام، پانی اور روزگار کے وسائل متاثر ہوں گے: دانشور

موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں حکومت ناکام، پانی اور روزگار کے وسائل متاثر ہوں گے: دانشور

کراچی (رپورٹر): سندھ یونائیٹڈ تھنکرز فورم کے زیرِ اہتمام پاکستان امریکن کلچرل سینٹر (پی اے سی سی) کراچی میں "موسمیاتی تبدیلی: اس کے اثرات اور چیلنجز" کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں ماحولیاتی ماہرین، دانشوروں، صحافیوں، وکلاء، سیاسی و سماجی کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وائس چیئرمین سید زین شاہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک ساتھ معاشی اور موسمیاتی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے، لیکن حکمرانوں کی ترجیحات میں ماحولیات کا تحفظ شامل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران عوامی مسائل کے بجائے ذاتی اور سیاسی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین قومی مسئلے کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور سندھ حکومت نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف 7 فیصد اضافہ کیا، جبکہ مہنگائی کی شرح تقریباً 11.5 فیصد ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سید زین شاہ نے کہا کہ سندھ کے پانی اور وسائل پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ کے مالی وسائل سندھ کے عوام کی فلاح، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوامی ضروریات پر خرچ کیے جائیں۔ انہوں نے خاص طور پر کراچی کے K-4 واٹر سپلائی منصوبے کو جلد مکمل کرنے اور نکاسیٔ آب، سیوریج اور صاف پینے کے پانی کے منصوبوں کو ترجیح دینے پر زور دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دریائے سندھ کے قدرتی بہاؤ میں مزید رکاوٹیں پیدا کی گئیں تو سندھ ڈیلٹا، ساحلی پٹی، زراعت، ماہی گیری، مینگرووز کے جنگلات اور لاکھوں افراد کا روزگار شدید متاثر ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری، سنجیدہ اور سائنسی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے متفقہ طور پر 15 نکاتی قرارداد منظور کی، جس میں سندھ میں پانی کی قلت، سمندر کی پیش قدمی، جنگلات کی تباہی، صنعتی و شہری آلودگی، غیر منصوبہ بند شہری توسیع، زرعی زمینوں کے زوال اور حیاتیاتی تنوع میں کمی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ سندھ کے جنگلات سے قبضے ختم کیے جائیں، غیرقانونی درختوں کی کٹائی روکی جائے، بڑے پیمانے پر شجرکاری کی جائے، 1991ء کے پانی معاہدے کے تحت سندھ کو اس کا آئینی حصہ دیا جائے، سندھ ڈیلٹا تک ماحولیاتی بہاؤ یقینی بنایا جائے اور پانی کی تقسیم کے نظام میں مکمل شفافیت لائی جائے۔ قرارداد میں کراچی کے K-4 منصوبے کی جلد تکمیل، جدید واٹر مینجمنٹ، بارش کے پانی کے ذخائر، برقی ٹرانسپورٹ، فضائی آلودگی میں کمی، جدید نکاسیٔ آب کے نظام، لیاری اور ملیر ندیوں کی بحالی، شہری سیلاب سے بچاؤ، ساحلی علاقوں کے تحفظ، مینگرووز کی بحالی، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، ماحولیاتی اثرات کے جائزے کے بغیر ترقیاتی منصوبوں کی منظوری پر پابندی، ماحولیات کی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانے اور سندھ کے لیے جامع کلائمیٹ ریزیلینس پالیسی مرتب کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ سیمینار سے ماحولیاتی ماہرین ناصر پنہور، زین داؤد پوٹو، سیمی کمال، رمضان برڑو، ڈاکٹر یونس آرائیں اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ دور کا سب سے بڑا انسانی، معاشی اور ماحولیاتی چیلنج بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومت، سیاسی جماعتوں، ماہرین اور سول سوسائٹی کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔