ٹنڈو محمد خان : جسقم (بشیر خان قریشی گروپ) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز کالانی، پنہل ساریو اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ پورے سندھ میں پانی کی مصنوعی قلت پیدا کی گئی ہے، جس کے باعث لاکھوں ایکڑ زرعی زمینیں غیر آباد اور بنجر ہوتی جا رہی ہیں، مگر سندھ حکومت نے کبھی بھی سندھ کے حقوق کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
ٹنڈو محمد خان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا کہ سندھ کی لاکھوں ایکڑ زمینیں کارپوریٹ فارمنگ کی آڑ میں فروخت کی جا رہی ہیں اور اس کے ذریعے سندھ پر غیر مقامی افراد کو مسلط کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ دریائے سندھ پر پنجاب نے 42 غیرقانونی نہریں نکال کر سندھ کے پانی پر ڈاکا ڈالا ہے، جس کے نتیجے میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور آباد زمینیں بنجر بنتی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی پر قبضہ کرکے سندھ اور سندھ کے عوام کو بھوک اور بدحالی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا کہ سندھ حکومت نہ تو معدنی وسائل، نہ پانی کے بحران اور نہ ہی پریا کماری کی بازیابی جیسے اہم معاملات پر سنجیدہ ہے، جبکہ کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر لاکھوں ایکڑ زمین فروخت کی جا چکی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے غیرقانونی افغان باشندوں کی واپسی کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جسقم ہمیشہ "گو افغانی گو" کے نعرے لگاتی رہی، مگر اس وقت ان کی واپسی نہیں ہوئی۔ اب دیگر صوبے افغان باشندوں کی واپسی کے لیے سنجیدہ ہیں، لیکن سندھ حکومت اس معاملے میں بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔
انہوں نے کہا کہ 8 جولائی کو سجاول میں دریائے سندھ پر غیرقانونی نہریں نکالنے اور پانی کی مصنوعی قلت کے خلاف دھرنا دیا جائے گا، جس میں شرکت کے لیے سندھ بھر کے عوام کو دعوت دی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنی یکجہتی کا ثبوت دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت اپنے حصے کا پانی پہلے ہی فروخت کر چکی ہے، جبکہ اب دریائے سندھ سے غیرقانونی نہریں نکال کر سندھ کا پانی روکا جا رہا ہے، جس کے باعث پورے سندھ، خصوصاً زیریں سندھ (لاڑ) میں پینے کے پانی تک کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پانی کی شدید کمی کے باعث آج بھی لاکھوں ایکڑ زرعی زمینیں بنجر ہو رہی ہیں، جبکہ وفاقی حکومت سندھ کے حقوق پر ڈاکا ڈال رہی ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
0 تبصرے