اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جس طریقے سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو نشانہ بنایا گیا، وہ افسوسناک ہے، اس لیے کوئی اس کا دفاع کرے یا نہ کرے، ہم ضرور اس کا دفاع کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاق کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے تو صوبے بھی معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے باوجود کسی بھی صوبے کو اس کا مکمل حصہ نہیں دیا گیا۔ حکومت کے ساتھ مل کر مختلف مسائل کا آئینی حل تلاش کیا گیا، جبکہ صوبائی حکومتوں نے بار بار قربانیاں دی ہیں اور آج بھی دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا نے بھی اپنے سیاسی اختلافات ایک طرف رکھ کر فیصلہ کیا ہے کہ قومی مفاد میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے اس فیصلے کو قومی اسمبلی کے فلور پر خوش آئند قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اگر اسی طرح قومی مفاد کے لیے کام جاری رکھا گیا تو ہر مشکل کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام مؤثر ثابت ہوا ہے اور دنیا بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے۔ عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ غربت کے خاتمے کے لیے بی آئی ایس پی بہترین منصوبوں میں سے ایک ہے، اس لیے اسے ختم کرنے کے بجائے مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی نے لاکھوں خاندانوں کی مدد کی ہے اور حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پروگرام میں توسیع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پروپیگنڈے کے باوجود بی آئی ایس پی کو آگے بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی نے سیلاب اور کورونا کے دوران بھی بہترین کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح اس پروگرام کو نشانہ بنایا گیا، وہ افسوسناک اور شرمناک ہے۔ اگر انتہاپسندی اور تشدد پسندی کا مقابلہ کرنا ہے تو لوگوں کو اعتماد دینا ہوگا، اور کوئی دوسرا دفاع کرے یا نہ کرے، پیپلز پارٹی اس پروگرام کا دفاع کرتی رہے گی۔
0 تبصرے