وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللّٰہ تارڑ نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی، منشیات کے پیسہ کا استعمال اور سیاست کے گٹھ جوڑ کا الزام لگایا، پی ٹی آئی کے طرزِ عمل پر سخت تنقید کی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللّٰہ تارڑ نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا (کے پی) میں دہشت گردی اور سیاست کا گٹھ جوڑ واضح طور پر موجود ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ منشیات کی آمدنی دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کی مذمت کے بجائے کچھ حلقے آج بھی افغان طالبان کی حمایت کرتے ہیں۔
عطا تارڑ نے کے پی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ واحد صوبہ ہے جہاں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں چلانے کی اجازت ہے، اور صوبائی حکومت کو اس سلسلے میں کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما بھارتی اور افغان چینلز پر جا کر پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں اور انٹرویوز دے کر ملک کے خلاف پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ان افراد کو "چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے" کیونکہ وہ پاکستان کی عزت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی کے طرزِ عمل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سیاست نے صوبے کی گورننس کو نظرانداز کیا ہے، اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا رہا۔ وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، حالانکہ وہ صحت مند ہیں۔
عطا اللّٰہ تارڑ نے پی ٹی آئی پر بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام بھی عائد کیا، اور کہا کہ جو لوگ فوج کے خلاف بات کرتے ہیں، ان کے پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس بھارت اور افغانستان سے چلائے جاتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کے پی میں دہشت گردی کے شکار لوگ وہ ہیں جن کے منشیات کے کاروبار کے ساتھ تعلقات ہیں، اور وہ لوگ جن کی جیبیں بھری جا رہی ہیں، ان پر دہشت گرد حملے نہیں کرتے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پی کا منشیات فروشوں کے ساتھ تعلق ہے اور ابھی بھی کے پی میں غیر قانونی طور پر پہاڑ کاٹے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے حملے کا مقصد افواج پاکستان کو کمزور کرنا تھا، اور پی ٹی آئی نے افواہوں کے ذریعے فوج کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
0 تبصرے