بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور اکاؤنٹس بحالی کی سماعت، پارٹی کا کوئی وکیل عدالت ہی نہیں پہنچا

انسدادِ دہشت گردی عدالت میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور شوکت خانم کے اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے کی درخواستوں کی سماعت وکلاء کی غیرحاضری کے باعث یکم دسمبر تک مؤخر ہوگئی۔

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور اکاؤنٹس بحالی کی سماعت، پارٹی کا کوئی وکیل عدالت ہی نہیں پہنچا

انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات اور شوکت خانم کینسر اسپتال کے بینک اکاؤنٹس ایمرجنسی بنیادوں پر ڈی فریز کرنے سے متعلق دو اہم درخواستوں پر سماعت ہوئی، تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی بھی وکیل عدالت میں پیش نہ ہوا۔ عدالت اور پراسیکیوشن ٹیم وکلاء کا طویل وقت تک انتظار کرتی رہیں۔ درخواستیں علیمہ خان اور بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے دائر کی تھیں، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق شدید خدشات ہیں، اس لیے فیملی اور پارٹی رہنماؤں کو ملاقات کی اجازت دی جائے۔ مزید یہ کہ شوکت خانم کے اکاؤنٹس منجمد ہونے کے باعث لائف سیونگ ادویات پورٹ پر رکی ہوئی ہیں اور ادائیگی نہ ہونے سے سیکڑوں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ عدالت نے گزشتہ روز ہی فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آج کی سماعت مقرر کی تھی، مگر پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک سمیت کوئی جونیئر وکیل بھی پیش نہ ہوا، جس پر عدالت نے کارروائی یکم دسمبر تک ملتوی کر دی۔ اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے سماعت کے دوران کہا کہ "سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا تو کیا جاتا ہے، لیکن عدالت میں پیش ہونے والا کوئی نہیں۔"