جنگی صورتحال سے متعلق اہم شواہد کا انکشاف، ایران کی خطے کے ممالک کو وارننگ

جنگی صورتحال سے متعلق اہم شواہد کا انکشاف، ایران کی خطے کے ممالک کو وارننگ

تہران (ویب ڈیسک) ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران پر مسلط کی گئی دونوں جنگوں کے دوران یورپی ممالک نے غیر مناسب مؤقف اختیار کیا، جبکہ یورپی ممالک گزشتہ برسوں میں اپنی پالیسیوں کے باعث خود کو سفارتی عمل سے الگ کر چکے ہیں۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ دنیا یورپی ممالک کا یہ رویہ دیکھ چکی ہے اور یہ غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل یقیناً یورپی فریقوں کی ساکھ اور حیثیت میں اضافے کا باعث نہیں بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ اس جنگ کا اصل مقصد ایران کی تہذیب کو ختم کرنا تھا، تاہم اب یہ مقصد تبدیل ہو کر منجمد ایرانی اثاثوں کے ذریعے امریکی کسانوں کو مالی فائدہ پہنچانے تک محدود ہو گیا ہے، جبکہ ایران کا ردِعمل انسانی ثابت قدمی کی ایک مثال ہے۔ ترجمان وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ اجتماعی طور پر ہمیں ان فنڈز کے استعمال کے حوالے سے کسی قسم کی پابندی کا سامنا نہیں ہونا چاہیے اور ایرانی اثاثے مکمل آزادی کے ساتھ استعمال کیے جائیں گے۔ اسماعیل بقائی نے یہ بھی بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں موجود ایرانی وفد نے آئی اے ای اے کے سربراہ گروسی سے ملاقات نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ خطے کے بعض ممالک نے اسرائیل کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا، اور ان ممالک کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے جو بھی ضروری اقدامات ہوں گے، وہ کیے جائیں گے۔