مقررین نے کتاب کو تعلیمی اصلاحات کے لئے اہم قرار دیا
اسلام آباد؛ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ممتاز ماہرِ تعلیم، محقق، مصنف اور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی کی معروف کتاب ''پاکستان میں تعلیم پر نظرِ نو'' کے نظرثانی شدہ ایڈیشن کی رونمائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں ڈاکٹر شاہد صدیقی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔تقریب کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کی جبکہ ماہرینِ تعلیم، دانشوروں، اساتذہ، محققین، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔مقررین نے کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے پاکستان کے تعلیمی نظام، پالیسی سازی، تدریسی طریقہ کار اور مستقبل کے تعلیمی تقاضوں کو سمجھنے کے لیے ایک اہم علمی دستاویز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تصنیف ڈاکٹر شاہد صدیقی کے وسیع تحقیقی تجربے اور گہری بصیرت کا نتیجہ ہے جس میں تعلیم کے مختلف پہلوؤں کا تنقیدی جائزہ اور اصلاحات کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کی گئی ہیں۔مقررین نے امید ظاہر کی کہ کتاب کا یہ نظرثانی شدہ ایڈیشن تعلیمی پالیسی سازوں، منتظمین، اساتذہ، محققین اور طلبہ کے لیے یکساں طور پر مفید ثابت ہوگا اور تعلیمی شعبے میں بہتری کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا۔اپنے خطاب میں کتاب کے مصنف، ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق پاکستان کے تعلیمی نظام میں بہتری اور اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ان کے مطابق اس کتاب کے نظرثانی شدہ ایڈیشن میں موجودہ چیلنجز اور مستقبل کے امکانات کو مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد بہتر رہنمائی حاصل کر سکیں۔تقریب سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود، پاکستان میں جائیکا کے کنٹری ایڈوائزر عابد گل، فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر ملک غلام بہلول، وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی ڈپٹی ایجوکیشنل ایڈوائزر ڈاکٹر شعیبہ منصور اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ایجوکیشن کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر افشاں ہما نے بھی خطاب کیا۔تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر شاہد صدیقی کی مختلف تصانیف پر مشتمل کتابی سٹال لگایا گیا جہاں طلبہ اور فیکلٹی ممبران کے لیے 40 فیصد رعایت دی گئی۔ شرکاء نے کتابوں میں گہری دلچسپی لی، خریداری کی اور مصنف سے آٹوگراف بھی حاصل کیے۔
0 تبصرے