کوئٹہ: ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات پاک۔ایران سرحد تک جا پہنچے ہیں، جہاں تجارتی سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں اور پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
سرحدی ذرائع کے مطابق گزشتہ تین دنوں کے دوران تفتان بارڈر سے ایک ہزار سے زائد پاکستانی وطن واپس پہنچ چکے ہیں، جن میں اکثریت طلبہ کی بتائی جاتی ہے۔ ایران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو کا کہنا ہے کہ سفارتخانے نے ایرانی حکام کے تعاون سے کم از کم 650 پاکستانیوں کو بحفاظت نکال کر وطن واپس بھیجا ہے۔
دوسری جانب سرحد پر سینکڑوں مال بردار گاڑیاں پھنس جانے کے باعث اربوں روپے کے تجارتی نقصان کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ آلو، کینو اور چاول کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں، جس سے تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں ایرانی تیل اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کوئٹہ میں ایرانی تیل کی قیمت 30 سے 40 روپے فی لیٹر تک بڑھ چکی ہے اور اب اس کی قیمت 200 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
حکام کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر فی الحال کسی بھی پاکستانی شہری کو ایران جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، البتہ ایرانی شہریوں کو اپنے وطن واپس جانے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ ادھر ایران میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام بھی شدید متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث وہاں موجود پاکستانیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
0 تبصرے