انڈونیشیا کے صوبہ آچے میں ایک نوجوان جوڑے کو عوام کے سامنے اسٹیج پر کوڑے مارنے کی سزا دی گئی تاکہ یہ واقعہ دوسروں کے لیے عبرت کا سبب بنے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا میں اسلامی قوانین کے تحت فحاشی اور غیر شرعی اعمال کے خلاف سزائیں عام طور پر سرعام دی جاتی ہیں۔
اس قانون کے تحت، ایک نوجوان جوڑے کو جنسی تعلق قائم کرنے اور شراب نوشی کے جرم میں 140 کوڑے مارے گئے۔ کوڑے لگنے کے دوران 21 سالہ لڑکی بے ہوش ہو گئی، جسے تین خواتین اہلکاروں نے باری باری چھڑی سے سزا دی۔
سزا مکمل ہونے کے بعد متاثرہ خاتون کو ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں، نوجوان لڑکے کو بھی اسی اسٹیج پر کوڑے مارے گئے۔
اسی موقع پر اسلامی پولیس فورس کے ایک اہلکار اور اس کی ساتھی خاتون کو بھی 23 کوڑے مارے گئے، کیونکہ وہ ایک گھر میں تنہا قابل اعتراض حالت میں پائے گئے تھے۔
اسلامی پولیس کے سربراہ محمد رضال کے مطابق، مذکورہ اہلکار کو ملازمت سے برطرف کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
آچے انڈونیشیا کا وہ واحد صوبہ ہے جہاں شرعی قوانین نافذ ہیں، اور اسلامی فوجداری ضابطے کے مطابق جنسی تعلقات پر 100 اور شراب نوشی پر 40 کوڑوں کی سزا دی جاتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اس طریقہ کار کو غیر انسانی قرار دے کر تنقید کرتی رہی ہیں، تاہم صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں شریعت اور ثقافتی روایات کے مطابق درست ہیں۔
0 تبصرے