شڪارپور (احسان ابڑو)
شڪارپور پولیس کی جانب سے گڑھی یاسین کے قریب واقع گاؤں صادق جیہو پر مبینہ طور پر بلاجواز چڑھائی کیے جانے کے خلاف گاؤں کے مکینوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کارروائی کے دوران 25 سے زائد بھینسیں زبردستی لے جائی گئیں، جو سراسر ناانصافی ہے۔
احتجاج میں غلام قمبر جیہو، عجیب جیہو، غلام محمد جیہو، واجد جیہو، یاسین جیہو، دلن جیہو اور دیگر افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی قسم کے جرم میں ملوث نہیں ہیں۔ ان کے مطابق چند سال قبل برادری کے درمیان جھگڑے ہوئے تھے، تاہم وہ تمام مقدمات سے باعزت بری ہو چکے ہیں۔
گاؤں والوں کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود شڪارپور پولیس نے بلاجواز کارروائی کرتے ہوئے گاؤں پر دھاوا بولا اور 25 سے زائد بھینسیں ڈاٹسن اور مزدا گاڑیوں میں بھر کر لے گئی۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ پولیس کے ساتھ کچھ نجی افراد بھی شامل تھے، جنہوں نے مویشی ہانکے۔
متاثرین کے مطابق بھینسوں کو گڑھی یاسین کے قریب کچے کے علاقے میں بروہی برادری کے پاس چھوڑ دیا گیا ہے اور انہیں کسی محفوظ ڈک پر بھی نہیں رکھا گیا۔ گاؤں والوں نے واضح کیا کہ وہ مال مویشی پالنے والے پرامن لوگ ہیں اور چوری یا کسی غیر قانونی سرگرمی سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
احتجاج کرنے والوں نے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو، ڈی آئی جی لاڑکانہ اور ایس ایس پی شڪارپور سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایچ او فوجداری اختر ابڙو اور ایس ایچ او گڑھی یاسین ہدایت اللہ نندواںی کی جانب سے کی گئی مبینہ زیادتی کا نوٹس لیا جائے، ضبط کی گئی بھینسیں واپس کرائی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔
0 تبصرے