اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون کی مخالفت پر شدید بحث دیکھنے میں آئی، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے قانون کو چیلنج کرنے پر سخت ردِعمل دیا۔
ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی نے کہا کہ کچھ حلقوں کی جانب سے دھمکی دی گئی تھی کہ اگر صدر نے اس بل پر دستخط کیے تو پورے ملک میں احتجاج کیا جائے گا، مگر صدر نے درست راستے پر چلتے ہوئے قوم کی بیٹیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا اور بل پر دستخط کر دیے، جو اب باقاعدہ قانون بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پارلیمنٹ کا رکن، جو خود قانون ساز ہے، ایوان میں کھڑے ہو کر منظور شدہ قانون کو چیلنج کرے اور ریاست کو للکارے تو اس کی کیا سزا ہونی چاہیے؟ تمام اراکین نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق ایوان کو چلائیں گے، اس لیے منظور شدہ قانون کو چیلنج کرنا پارلیمنٹ کی بالادستی کے خلاف ہے۔
شرمیلا فاروقی نے کہا کہ قانون کو شرعی یا اسلامی مسئلہ قرار دے کر متنازع بنانے کی کوشش درست نہیں۔ یہ قانون بچیوں کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کے لیے بنایا گیا ہے، اور اس پر اس سے قبل بھی مشترکہ اجلاس میں تفصیلی بحث ہو چکی ہے۔
0 تبصرے