اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے نیپرا کی نئی پالیسی کو پاکستان کے ماحولیاتی وعدوں کے منافی قرار دے دیا ہے۔
ایک بیان میں شیری رحمان نے کہا کہ نیپرا کے نئے قواعد صاف اور سستی بجلی فراہم کرنے والے شہریوں کو سزا دینے کے مترادف ہیں، نیپرا پر اعتماد کر کے سولرائزیشن میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روف ٹاپ سولر اور دیگر سرمایہ کاروں کو منفی پیغام دیا جا رہا ہے، بجلی کی ترسیل کے نظام کو یا تو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے یا صوبوں کے سپرد کیا جائے۔
واضح رہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیشنل گرڈ کو بجلی فروخت کرنے کے نرخوں میں کمی کر دی ہے۔
نئی ریگولیٹریز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق پرانے سولر صارفین اپنی بجلی نیشنل گرڈ کو 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے پرانے ریٹس پر ہی فروخت کریں گے، تاہم نئے صارفین کے لیے نیشنل گرڈ کو فروخت کی جانے والی بجلی کے فی یونٹ ریٹ میں 17 روپے 19 پیسے کی نمایاں کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اب نئے صارفین کو فی یونٹ صرف 8 روپے 13 پیسے ادا کیے جائیں گے۔
0 تبصرے