واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے بھیجا گیا ایک نجی پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میکرون زیادہ عرصہ اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہیں گے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی امریکی کوششوں کے باعث یورپ اور امریکہ کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہو چکی ہے۔
اس معاملے پر یورپ میں بے چینی پائی جا رہی ہے، جبکہ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے اس حوالے سے کئی یورپی رہنماؤں کے مقابلے میں سخت موقف اختیار کیا ہے اور یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف اپنے مضبوط ترین تجارتی اقدامات کو فعال کرے۔
ڈونلڈ ٹرمپ فرانس کے اس فیصلے پر بھی ناراض دکھائی دے رہے ہیں کہ وہ ان کی جانب سے تجویز کردہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شامل ہونے سے گریز کر رہا ہے۔ میکرون نے اس بورڈ کے اقوام متحدہ کے کردار پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
جب ٹرمپ سے میکرون کے اس موقف پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: ’’کیا اس نے واقعی ایسا کہا ہے؟ خیر، ویسے بھی اسے کوئی پسند نہیں کرتا، کیونکہ وہ بہت جلد اقتدار سے باہر ہو جائے گا۔‘‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ فرانسیسی وائن اور شیمپین پر 200 فیصد ٹیرف عائد کریں گے، جس کے بعد وہ (میکرون) شامل ہو جائے گا، اگرچہ اس کی شمولیت ضروری نہیں۔
اس بیان کے چند گھنٹوں بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر میکرون کے ساتھ ہونے والی نجی گفتگو کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کر دیا۔
اس گفتگو میں میکرون نے لکھا تھا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ ٹرمپ گرین لینڈ کے حوالے سے کیا کرنا چاہتے ہیں، اور انہوں نے روس سمیت دیگر ممالک کو دعوت دیتے ہوئے جی سیون اجلاس کی میزبانی کی پیشکش بھی کی تھی۔
پیغام میں میکرون نے ٹرمپ کو اپنا ’’دوست‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شام کے معاملے پر مکمل طور پر ان سے متفق ہیں اور ایران کے حوالے سے بھی مل کر بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔
0 تبصرے