آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کے احکامات پر انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ملوث تمام پولیس اہلکار گرفتار۔
گرفتار اہلکاروں کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج۔
فرائض کی ادائیگی میں غفلت پر متعلقہ ایس ایچ او کو بھی معطل کرنے کا حکم۔ آئی جی سندھ جاویدعالم اوڈھو
تمام اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کاروائی کو یقینی بنایا جائے۔آئی جی سندھ
متاثرہ لڑکی کو ضروری قانونی مدد سمیت مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔آئی جی سندھ
پولیس کی وردی میں کالی بھیڑوں کی محکمہ میں کوئی جگہ نہیں۔ آئی جی سندھ
قانون سے بالاترکوئی نہیں،ذمہ داروں کو عبرت کانشان بنایا جائے۔ آئی جی سندھ
پولیس عوام کے جان و مال کی محافظ ہے،ایسے عناصر کو برادشت نہیں کیا جائے گا۔ آئی جی سندھ
گڑھی حسن میں نوجوان لڑکی سے پیش آنے والی اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے، جس میں پولیس کے 6 اہلکار ملوث قرار دیے گئے ہیں۔ ایس ایس پی جیکب آباد محمد کلیم ملک نے خود تحقیقات کر واقعہ کی تصدیق کی ہے۔ متاثرہ لڑکی کے دادا نور خاتون کی درخواست پر آر ڈی 44 تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ میں اے ایس آئی محراب سندراڑی اور ہیڈ کانسٹیبل عبدالنبی سموت سمیت سپاہی غلام یاسین جکڑاݨی، خادم حسین جکڑاݨی، میر حسن بمبل اور برکت جکڑاݨی کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایس ایس پی محمد کلیم ملک نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے دوران ثابت ہوا ہے کہ ایس ایچ او کے مقام پر جانے کے بعد 6 پولیس اہلکاروں نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق، قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی اور کسی کے ساتھ بھی رعایت نہیں کی جائے گی۔
0 تبصرے