حیدرآباد؛ سافکو مائیکرو فنانس کمپنی نے اپنے ملازمین کو حصص دینے کا اعلان کردیا ہے۔ سافکو کے بانی سلیمان جی ابڑو نے کہا ہے کہ سافکو عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا کر ملک کے لیے قابل فخر ادارہ بن گیا ہے۔ ہم بہتر تعلیم، صحت سمیت سماجی خدمات سے دنیا میں تبدیلی لاسکتے ہیں۔
سافکو گروپ کا سالانہ اجلاس جم خانہ حیدرآباد میں منعقد ہوا، جس میں سندھ بھر سے سافکو مائیکرو فنانس کمپنی، سافکو سپورٹ فاؤنڈیشن اور سندھ ایگریکلچرل اینڈ فاریسٹری ورکرز کوآرڈینیشن آرگنائزیشن کے اہم انتظامی عہدیداران، گورننگ بورڈ کے اراکین، زونل اور ریجنل منیجرز اور معزز سماجی و ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سافکو گروپ کے بانی و صدر ڈاکٹر سلیمان جی ابڑو نے کہا کہ چالیس سالہ جدوجہد میں سافکو نے ایسی صلاحیت حاصل کی ہے کہ ملک کے بیشتر ادارے ہمارے تجربات سے استفادہ کرتے ہیں اور مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے وفود ہمارے پاس آتے اور ہمارے کام کا مشاہدہ کرتے ہیں جس پر پاکستان کو فخر ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر سلیمان جی ابڑو نے مختلف ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم سے ملنے والے بین الاقوامی اعزازات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں احساس کمتری یا برتری نہیں ہے۔ عوام کی خدمت کرنے، کمزوروں کے مددگار بننے اور ان کے دکھ کم کرنے میں جو خوشی ملتی ہے وہ کسی بھی سرکاری اعزاز یا صدارتی ایوارڈ سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سافکو کو ملائیشیا میں اسلامی خدمات پر ملائیشیا کے وزیراعظم اور مالدیپ کے صدر کی جانب سے عالمی ایوارڈ ملا، اس کے علاوہ عالمی سطح کا ’اسلامک ریٹیل بینکنگ ایوارڈ‘ بھی ملا جب کہ کراچی میں پی ایم این نیشنل کانفرنس کے دوران سافکو کو ملک بھر کے اداروں کی جانب سے قائدانہ معیارات اور اختراعی انداز میں کام کرنے پر دو ایوارڈز دیے گئے۔ یہ سب سافکو ٹیم کی اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سافکو گروپ کی اعلیٰ قیادت سے لے کر فیلڈ میں کام کرنے والے عام ملازمین تک سب اس جذبے سے پرعزم ہیں کہ ہمیں اپنی زندگی میں ایسے کام کرنے چاہئیں کہ لوگ مثالیں دیتے رہیں۔ یہی جذبہ ہماری کامیابی کا جوہر ہے، اسی جذبے کے تحت ہم نے اپنے ملازمین کو سافکو مائیکرو فنانس کمپنی میں حصص دینے کا فیصلہ کیا ہے، تنخواہوں اور دیگر مراعات کے ساتھ انہیں شیئر ہولڈر بنانے اور سافکو کے منافع میں باقاعدگی سے حصہ دینے کا ہمارا فیصلہ، ہماری ہمت ملک کے دیگر اداروں کے لیے ایک مثال کا کام کرے گی اور محنتی لوگوں کی قدر کرنے کی روایت کو مضبوط کرنے کا کریڈٹ بھی سافکو کو ملے گا۔ سافکو سربراہ نے کہا کہ ملازمین کو کمپنی کا مالک بنانے سے ان میں ملکیت کا احساس پیدا ہوگا۔ جب ہم اسے اپنی کمپنی سمجھیں گے اور اپنا شیئر سمجھ کر اس میں کام کریں گے، تب ہی ہم اپنے خوابوں کو پورا کر سکیں گے۔ ڈاکٹر ابڑو نے کہا کہ علم تب ہی کارآمد ہو گا جب بصیرت ہو، اس لیے ہمیں اپنی صلاحیت، علم اور ہنر کو بصیرت کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہو گا۔ سافکو کا مقصد خالی ترقی نہیں بلکہ معیاری ترقی ہے، ایسی ترقی جو لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی اور خوشحالی لائے۔ یہ تب ہو گا جب روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ اسی لیے بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے سافکو نے زرعی کاروبار کی ترقی کے لیے لوگوں کو بطور امداد کروڑوں روپے فراہم کیے ہیں۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سافکو مائیکرو فنانس کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر سید سجاد علی شاہ نے کہا کہ 2025 میں سافکو نے اپنے کام، اپنے اثرات کو منوایا ہے۔ اس سال، سافکو مائیکرو فنانس کمپنی نے قومی سطح پر خود کو تسلیم کرایا اور بین الاقوامی سطح پر بین الاقوامی اعزازات حاصل کیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مالیاتی اداروں میں سافکو مائیکرو فنانس کمپنی کو مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے تمام اداروں میں سب سے کم اخراجات لینے والا ادارہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ کیونکہ یہ ادارہ عام لوگوں کا ہے اور یہ سافکو کی عوام دوست قیادت کی وجہ سے ہے۔ اس موقع پر سی ای او سافکو سپورٹ فاؤنڈیشن بشیر احمد ابڑو نے کہا کہ سافکو سپورٹ فاؤنڈیشن نے بھی سندھ حکومت کے ساتھ مل کر نمایاں کام کیا ہے۔ 257,000 مکانات کی تعمیر کے منصوبے میں اب تک ایک لاکھ گھر مکمل کرکے لوگوں کے حوالے کرچکے ہیں۔ تقریب سے سافکو بورڈ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل کنبھر، بورڈ ممبران پروفیسر ڈاکٹر غلام علی جاریکو، ممتاز بانو شیخ، زیب النساء ملاح، سینئر عہدیدار رمیز اقبال میمن، ذوالفقار علی متقی، مفتی ارسلان، سماجی رہنما ڈاکٹر بخش علی پتافی، معروف ادیب سید زوار نقوی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
0 تبصرے