بدين: کیلاش کولہی کے قتل کے خلاف دوسرے روز بهی دھرنا جاری، زمیندار سرفراز نظامانی کی گرفتاری کا مطالبه

بدين: کیلاش کولہی کے قتل کے خلاف دوسرے روز بهی دھرنا جاری،  زمیندار سرفراز نظامانی کی گرفتاری کا مطالبه

بدين کے پيرو لاشاری میں بااثر زمیندار سرفراز نظامانی کی جانب سے گولیاں مار کر کیلاش کولہی کے قتل کے خلاف آل پاکستان کولہی اتحاد کی طرف سے پیر چوک بدین پر دھرنا دوسرے روز بهی جاری رها، سخت سردی کی رات میں مرد، عورتیں اور معصوم بچے بڑی تعداد میں دھرنے میں موجود رہے۔ قوم پرست سیاسی رہنما ایس یو پی کے مرکزی رہنما امیر حسن آزاد، سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما شاہ نواز سیال، ڈاکٹر عزیز میمن، کولہی اتحاد کے رہنما پھلاج کولہی، رام کولہی اور عورت رہنما سوڈھی کولہی کے ساتھ سماجی رہنما بھی دھرنے میں موجود رہے۔ دھرنے میں بیٹھے افراد کیلاش کولہی کے قاتل کو گرفتار کرنے کے مطالبے کے نعرے لگا رہے تہے۔ پیر چوک دھرنے والی جگہ پر بدین پولیس، لیڈیز پولیس کے ساتھ صبح سے ہی لاٹھیوں اور آنسو گیس کے ساتھ پہنچ گئی ۔ دھرنے میں کیلاش کا والد، والدہ، گھر والی اور پانچ معصوم بچے بھی بیٹھے رہے، دوسری طرف قتل شدہ کیلاش کولہی کی بیوی مسمات لکھا کولہی نے کہا کہ میں روپلی کولہی کی اولاد ہوں، پولیس لاٹھی چلا کر دھرنا ختم کر دے تو دے، لیکن میں اپنے پانچ بچوں کے ساتھ موت تک میدان میں کھڑی رہوں گی۔ مسلسل بھوک اور سردی میں پوری رات دھرنے میں موجود رہنے کی وجہ سے مسمات لکھا کولہی کو بے ہوشی کے دورے پڑتے رہے۔ موجودہ عورتوں نے انہیں پانی چھڑک کر ہوش میں لایا،