مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کی پیشکش واضح طور پر کر رکھی ہے، مگر فیصلہ سازی کی کمی پی ٹی آئی کی قیادت، خصوصاً بانی پی ٹی آئی کی جانب سے ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ سیاسی مذاکرات کی راہ میں اصل رکاوٹ حکومت نہیں بلکہ خود بانی پی ٹی آئی ہیں، جبکہ ابہام دوسری جانب سے پیدا ہو رہا ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی پیشکش کرنے سے قبل نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لیا ہوگا، ایسا ممکن نہیں کہ اس سطح کا فیصلہ مشاورت کے بغیر کیا گیا ہو۔
رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت مذاکرات کی خواہش ظاہر کرتی ہے، تاہم جب تک بانی پی ٹی آئی خود ڈائیلاگ کی واضح پالیسی اختیار نہیں کرتے، اس وقت تک ملاقاتوں اور بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کبھی یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ مذاکرات کے لیے کسی کو اجازت دے دی گئی ہے، حالانکہ حتمی فیصلہ بانی پی ٹی آئی ہی کو کرنا ہے۔
مشیر وزیراعظم نے مزید کہا کہ صاف بات یہ ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی مذاکرات کے حق میں نہیں اور تشدد کی سیاست چاہتے ہیں تو اس کا کھل کر اعلان کریں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے کسی کو مذاکرات کا اختیار نہیں دیا، حتیٰ کہ علیمہ خان بھی یہ کہہ چکی ہیں کہ جو مذاکرات کرے گا وہ ان میں سے نہیں ہوگا۔
رانا ثناء اللّٰہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے پہیہ جام ہڑتال کے اعلان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی حالیہ ملاقاتوں سے آخر کیا حاصل ہوا؟ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی واقعی سنجیدہ ہے تو وزیراعظم کی پیشکش کا باضابطہ جواب دے اور ملاقات کے لیے وقت طے کرے۔ وزیراعظم یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ ان کے پاس نہیں آتے تو وہ اسپیکر چیمبر میں خود آنے کو بھی تیار ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کے لیے کوئی شرط عائد نہیں کی۔ اگر اجازت کا مسئلہ درپیش ہے تو پی ٹی آئی قیادت وزیراعظم سے ملاقات میں یہی بات زیرِ بحث لے آئے۔ رانا ثناء اللّٰہ نے یاد دلایا کہ بجٹ منظوری کے موقع پر بھی وزیراعظم نے مذاکرات کی بات کی تھی، مگر اس وقت بھی مطالبہ یہی کیا گیا کہ پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے۔
0 تبصرے