کراچی (ویب ڈیسک) سندھ حکومت نے بلدیاتی نظام میں بڑی تبدیلیوں پر غور شروع کر دیا ہے، جبکہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء میں تجویز کردہ ترامیم کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بلدیاتی کونسلوں کو مضبوط بنانے، خدمات کو بہتر کرنے اور اداروں کی کارکردگی و احتساب کو مزید مؤثر بنانے پر غور کیا گیا۔
تجویز کردہ ترامیم کے تحت میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور وائس چیئرمین کے اختیارات اور ذمہ داریاں مقرر کی جائیں گی، جبکہ بلدیاتی انتخابات کا عمل کونسل کی مدت ختم ہونے سے 120 دن قبل شروع کرنا لازمی ہوگا۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ اگر مدت مکمل ہونے تک نئے انتخابات نہ ہوئے تو سبکدوش ہونے والا میئر یا چیئرمین بطور ایڈمنسٹریٹر ذمہ داریاں سنبھالے گا اور نئے منتخب نمائندے کے عہدہ سنبھالنے تک کام جاری رکھے گا۔
تجویز میں ڈپٹی میئر یا وائس چیئرمین کو متعلقہ کونسل کا کنوینر مقرر کرنے اور کراچی سمیت مستقبل کی میٹروپولیٹن کارپوریشنز کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ میٹروپولیٹن کمشنر رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ بلدیاتی نظام کو مؤثر، جوابدہ اور فعال بنانے کے لیے اداروں کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ نے ترامیم کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دے دی، جس میں شرجیل انعام میمن، ناصر حسین شاہ، سعید غنی، ضیاءُ الحسن لنجار، نجمی عالم اور سلیم بلوچ شامل ہیں۔ کمیٹی ترامیم کے حوالے سے سفارشات سندھ اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے دے گی۔
0 تبصرے