چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات سے متعلق پاکستان ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026ء میں ترامیم قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور

چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات سے متعلق پاکستان ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026ء میں ترامیم قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور

اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی پاکستان ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026ء اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026ء منظور کر لیے ہیں، جبکہ ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026ء 13 نومبر 2025ء سے نافذ العمل ہوگا۔ اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی شرکت کی اور اپوزیشن کی نشستوں پر جا کر اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے ہاتھ ملایا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور عامر ڈوگر سے بھی ملاقات کی۔ قومی اسمبلی میں ضمنی ایجنڈا پیش کیا گیا، جس کے تحت ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026ء اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026ء ایوان میں پیش کیے گئے۔ اپوزیشن نے ایجنڈے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بلوں کی کاپیاں فراہم نہیں کی گئیں۔ عالیہ کامران نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا سیکھیں، جس پر وزیر قانون نے کہا کہ بل ارکان کے ٹیبلٹس میں موجود ہے۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم اس پارلیمنٹ کے ارکان ہیں اور چاہتے ہیں کہ قانون سازی ہو، بل ہمیں دیے جائیں تاکہ ساتھی انہیں پڑھ کر اپنی رائے دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوں کو کم از کم دو تین دن کے لیے رکھا جائے تاکہ ان پر بحث کی جا سکے۔ محمود خان اچکزئی نے عمران خان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی کو آسمان کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے، جبکہ بدترین مجرم کا بھی یہ حق ہوتا ہے کہ اس کی صحت کا خیال رکھا جائے۔ اس دوران نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026ء منظوری کے لیے پیش کیا گیا، جسے اکثریتی ووٹوں سے منظور کر لیا گیا، جبکہ اپوزیشن نے ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ کے اجلاس میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026ء پر تحریک پیش کی گئی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے تحریکیں پیش کیں۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ بل پر بحث کرنے کی اجازت دی جائے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ رولز معطل کر دیے گئے ہیں اور بحث کی اجازت دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی ارکان نے حکومتی سینیٹرز سے سوال کیا کہ کیا انہوں نے بل پڑھا ہے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ ’’ایک شخص کے لیے قانون سازی نہیں ہونی چاہیے، جنہیں عبرت کا نشان بنانا چاہیے، انہیں امتیاز کا نشان بنا دیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر یہ اتنا ہی بہترین قانون ہے تو اسے چھپ چھپا کر کیوں لایا جا رہا ہے؟ آپ دونوں جماعتیں جمہوریت کے تابوت میں آخری کیلیں ٹھونک رہے ہیں، قوم کو تباہ نہ کریں۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ رولز کے مطابق ضمنی ایجنڈا لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ایک ترمیم کی گئی ہے اور ’’کنکرنٹلی‘‘ کا لفظ شامل کیا گیا ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان کی مسلح افواج نے اسی کوآرڈینیشن کے ساتھ جنگ لڑی اور پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کی۔ انہوں نے کہا کہ تینوں مسلح افواج کے مشترکہ تعاون سے کام کرنے کی بات کی گئی ہے اور قومی اسمبلی میں بھی بل کا ایک ایک لفظ پڑھ کر منظور کیا گیا۔ وزیر دفاع نے ڈیفنس فورسز آف پاکستان ترمیمی بل 2026ء سینیٹ میں پیش کیا، جسے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026ء کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم میں چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ قائم کیا گیا تھا، جس کے سیکریٹریٹ کی تشکیل سے متعلق بل متعارف کرایا گیا ہے۔ سینیٹ کا اجلاس کل صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔