اگر نیا صوبہ بنانا ہے تو پہلے پنجاب میں بنایا جائے، جبکہ سندھ میں نئے صوبے کی کوئی ضرورت نہیں
کراچی (رپورٹر): پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے وفاقی وزیرِ داخلہ کی جانب سے ہائبرڈ نظام کی حمایت، موجودہ جمہوری نظام کو ناکام قرار دینے اور نئے صوبوں سے متعلق بیانات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے یہ مطالبہ ہفتہ کے روز معروف بزنس مین سعید ایس محمد کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر تاجر سعید ایس محمد نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان بھی کیا۔ تقریب میں پارٹی کے جنرل سیکریٹری وقار مہدی، سعید غنی، جاوید ناگوری اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
نثار کھوڑو نے نئے صوبوں کے حوالے سے آئینی حیثیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 239 کی شق 4 میں نئے صوبوں کے قیام کا واضح طریقۂ کار موجود ہے، جس کے مطابق متعلقہ صوبائی اسمبلی جب تک دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور نہیں کرتی، اس وقت تک نیا صوبہ قائم نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں پنجاب اسمبلی نئے صوبے کے حق میں قرارداد منظور کر چکی ہے، اس لیے اگر نیا صوبہ بنانا ہے تو پہلے پنجاب میں بنایا جائے، جبکہ سندھ میں نئے صوبے کی کوئی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کسی بھی غیر آئینی اقدام کا متحمل نہیں ہو سکتا اور تمام مسائل کا حل جمہوریت کے تسلسل میں موجود ہے۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ اگر وفاقی وزیرِ داخلہ جمہوری نظام کو ناکام قرار دے کر ہائبرڈ نظام کی تعریف کر رہے ہیں تو پھر ان کے حکومت اور اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ’’شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار‘‘ بن کر جمہوریت کے ماحول کو خراب کر رہے ہیں، اس لیے پاکستان کی فوج اور سیاست کو بدنام کرنے والے شخص کے پاس ایسا اہم عہدہ نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جمہوری نظام کو ناکام قرار دینا آئین کے خلاف ہے، اور اگر غیر آئینی باتیں کی جائیں گی تو ایسے افراد قوم کے مجرم تصور کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے بارے میں بیان دینے والے اگر سندھ کی کسی بھی گلی میں نکلیں تو انہیں عوام کے ردِعمل کا اندازہ ہو جائے گا۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ اگرچہ وفاقی وزیرِ داخلہ کو وزیراعظم بننے کا شوق ہو سکتا ہے، لیکن وہ پاکستان کی مسلح افواج کا نام استعمال کرکے سیاست میں انتشار پیدا کر رہے ہیں، جبکہ فوج پہلے ہی سیاست سے لاتعلقی کا اعلان کر چکی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی وزیرِ داخلہ اپنے ایسے بیانات کے ذریعے مسلح افواج اور سیاست دونوں کو بدنام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کی پیروی کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ یہ بیانات دے رہے ہیں، وہ گزشتہ پچاس برس سے ملک پر حکومت کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف ملک قرضوں پر چل رہا ہے اور دوسری طرف 22 صوبے بنانے کی باتیں کر کے اخراجات بڑھانے کی تجویز دی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ملک کی معیشت 22 صوبوں، 22 وزرائے اعلیٰ، 22 گورنروں اور ان کے دفاتر کے اخراجات برداشت کر سکتی ہے؟
انہوں نے کہا کہ ہمیں کیڑے مکوڑے اور کاکروچ سمجھا جا رہا ہے، مگر یہی ’’کاکروچ‘‘ جنرل ضیاء الحق، ایوب خان اور پرویز مشرف جیسے آمروں کے خلاف بھی نکلے تھے، اور اگر یہ دوبارہ نکلے تو انہی لوگوں کے خلاف نکلیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی کو مصطفیٰ کمال سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ جلال پور کینال سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں زیرِ التوا ہے، اور جب سی سی آئی کا اجلاس ہوگا تو جلال پور کینال کا معاملہ ضرور اٹھایا جائے گا۔
0 تبصرے