مظفرآباد : وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے محسن نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ پہلے اسی نظام سے فائدہ اٹھاتے رہے، وہی آج اسے ناکام قرار دے رہے ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا، ’’زرداری صاحب کے دوسرے بیٹے کہہ رہے ہیں کہ یہ نظام ختم ہو چکا ہے اور اب مزید چلنے کے قابل نہیں رہا، حالانکہ آپ نے اسی نظام میں ساڑھے تین سال کے دوران 30 سال کا سفر طے کیا۔ آپ کہاں سے نکلے تھے اور آج کہاں پہنچ گئے ہیں؟ اب آپ کو احساس ہوا ہے کہ یہ نظام نہیں چل رہا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اب آپ کو معلوم ہوا ہے کہ یہ نظام درست نہیں، جبکہ آپ خود اسی نظام سے بھرپور فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ پاکستان کا پارلیمانی جمہوری نظام قائداعظم نے ملک کو دیا تھا اور یہ عوام کی سیاسی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شخص کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس کے بارے میں بحث ایک الگ معاملہ ہے، لیکن پارلیمانی جمہوری نظام پر سوال اٹھانا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق سیاسی معاملات کو ہمیشہ آئین اور جمہوریت کے دائرے میں رہ کر آگے بڑھانا چاہیے اور ملکی نظام کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ اگر جلسے میں آ کر یہ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم فارم 47 کی پیداوار ہیں، تو پھر یہ بھی بتایا جائے کہ صدر نے جو ووٹ حاصل کیے، وہ کس فارم کے تحت حاصل کیے گئے تھے؟
انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف کے بارے میں کہا جائے کہ وہ پہلی بار یا ہمیشہ دھاندلی کے ذریعے وزیراعظم بنے ہیں، تو پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس ملک میں ایسے لوگ بھی وزیراعظم بنے ہیں جو ملک ٹوٹنے کے بعد اقتدار میں آئے تھے۔
0 تبصرے