ساغر صدیقی: درد، درویشی اور لازوال شاعر کی یاد

حسن پٹھان

ساغر صدیقی: درد، درویشی اور لازوال شاعر کی یاد

میری نگاہِ شوق سے، ھر گل ھے دیوتا
میں عشق کا خدا ھُوں، مجھے یاد کیجیے
اردو شاعری کی تاریخ میں چند ایسے شاعر بھی گزرے ہیں جن کی زندگی اور شاعری ایک دوسرے کی مکمل ترجمان بن گئی. ان کی شخصیت، ان کا کلام اور ان کا طرزِ حیات اس قدر یکجا ہو گیا کہ انہیں الگ الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا. ایسے ہی نابغۂ روزگار شاعروں میں ساغر صدیقی کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے. 19 جولائی 1974ء کو اردو ادب کا یہ درویش شاعر لاہور میں اس دنیا سے رخصت ہوا، مگر اپنے اشعار کی صورت میں آج بھی زندہ ہے. ہر سال 19 جولائی ان کی برسی ہمیں اس شاعر کی یاد دلاتی ہے، جس نے اپنی مختصر زندگی میں اردو شاعری کو لازوال سرمایہ عطا کیا. ساغر صدیقی کا اصل نام محمد اختر تھا. وہ 1928ء میں انبالہ میں پیدا ہوئے، بچپن ہی سے انہیں شعر و ادب سے غیرمعمولی دلچسپی تھی. ابتدائی دور میں وہ ناصر حجازی کے تخلص سے شعر کہتے تھے، لیکن بعد میں انہوں نے ساغر صدیقی کا قلمی نام اختیار کیا، جو ہمیشہ کے لیے ان کی شناخت بن گیا. ان کی شاعری میں محبت، ہجر، تنہائی، محرومی، روحانیت اور انسانی دکھوں کا ایسا گہرا احساس ملتا ہے جو براہِ راست دل پر اثر کرتا ہے.
ساغر صدیقی کو فطرت نے غیرمعمولی شعری صلاحیت عطا کی تھی. وہ زودگو شاعر تھے اور کم وقت میں اعلیٰ معیار کا کلام تخلیق کرنے کی قدرت رکھتے تھے. ان کی غزلوں میں زبان کی شیرینی، خیال کی لطافت اور جذبات کی سچائی نمایاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے محبت کو صرف ایک جذباتی کیفیت کے طور پر نہیں، بلکہ انسانی روح کی تکمیل کے سفر کے طور پر پیش کیا. یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار آج بھی نوجوانوں سے لے کر ادب کے سنجیدہ قارئین تک سبھی کے دلوں میں جگہ رکھتے ہیں. ساغر صدیقی نے فلمی دنیا کے لیے بھی کئی یادگار نغمے تحریر کیے، جنہیں بے حد پسند کیا گیا۔
اگر وہ چاہتے تو شہرت، دولت اور آسائش کی زندگی گزار سکتے تھے، لیکن ان کی طبیعت میں دنیاوی چمک دمک سے زیادہ درویشی اور بے نیازی رچی بسی تھی. رفتہ رفتہ انہوں نے دنیا کی رنگینیوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور ایک فقیرانہ زندگی کو اپنا مقدر بنا لیا. اکثر انہیں لاہور کے کسی قبرستان، مزار یا سڑک کے کنارے گم سم بیٹھے یا مجذوبانہ کیفیت میں دیکھا جاتا تھا. ان کی زندگی کا یہ پہلو جہاں افسوسناک ہے، وہیں ان کی شخصیت کے روحانی اور حساس مزاج کی بھی عکاسی کرتا ہے. کہا جاتا ہے کہ مسلسل کسمپرسی، بے توجہی، بیماری اور نامساعد حالات نے ان کی صحت کو شدید متاثر کیا. وہ زندگی بھر معاشی آسودگی سے محروم رہے. یہی محرومیاں اور دکھ ان کی شاعری میں بھی جھلکتے ہیں. بالآخر 19 جولائی 1974ء کو صرف 46 برس کی عمر میں یہ لازوال شاعر دنیا سے رخصت ہوگیا. اگرچہ ان کی عمر مختصر تھی، مگر ان کا ادبی سرمایہ اتنا وسیع اور گراں قدر ہے کہ انہیں اردو کے صفِ اول کے شعرا میں شمار کیا جاتا ہے.
ساغر صدیقی کے شعری مجموعوں میں خشتِ میکدہ، لوحِ جنوں، شبِ آگہی، شیشۂ دل، غمِ بہار، مقتلِ گلی اور زہرِ آرزو شامل ہیں۔ ان مجموعوں میں ان کی فکری گہرائی، زبان کی خوبصورتی اور احساس کی شدت پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے. ان کی شاعری میں ایک ایسا درد بولتا ہے جو صرف ذاتی غم نہیں بلکہ پورے معاشرے کے دکھوں کی ترجمانی کرتا ہے. اسی لیے ان کا کلام وقت گزرنے کے ساتھ مزید معتبر اور مقبول ہوتا گیا. لاہور کے تاریخی میانی صاحب قبرستان میں ساغر صدیقی آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی قبر پر ان ہی کا یہ شہرۂ آفاق شعر کندہ ہے:
وہاں اب تک سنا ہے سونے والے چونک اٹھتے ہیں
صدا دیتے ہوئے جن راستوں سے ہم گزر آئے۔
یہ شعر دراصل ساغر صدیقی کی پوری زندگی کا استعارہ معلوم ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر اپنے بعد بھی اپنے لفظوں کی بازگشت کو زندہ دیکھ رہا ہو. حقیقت بھی یہی ہے کہ ساغر صدیقی آج جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی آواز، ان کے احساسات اور ان کی شاعری آج بھی ادب کے افق پر اسی طرح روشن ہیں جیسے ان کی زندگی میں تھیں. ساغر صدیقی کی برسی ہمیں یہ درست بھی دیتی ہے کہ کسی فنکار کی اصل عظمت اس کی دولت، شہرت یا ظاہری آسائش میں نہیں، بلکہ اس کے فن کی پائیداری میں ہوتی ہے. ساغر نے زندگی میں بے شمار مشکلات برداشت کیں، مگر اپنے فن پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا. ان کی شاعری آج بھی دلوں کو چھوتی ہے، آنکھوں کو نم کرتی ہے اور انسان کو اپنے باطن سے روبرو ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے. آج، ان کی برسی کے موقع پر، ہم اس شاعر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، ساغر صدیقی کا نام ہمیشہ اردو شاعری کی تاریخ میں ایک حساس دل، درویش صفت انسان اور لازوال شاعر کے طور پر زندہ رہے گا.