دنیا کے نقشے پر جاپان ہر لحاظ سے ایک مثالی ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کا نظم و ضبط، جدید ٹیکنالوجی، معیاری تعلیم، محنتی قوم، مضبوط معیشت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پوری دنیا کے لیے مثال ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ترقی پذیر ملک کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ جاپان کو اپنا ماڈل بنائے اور اس جیسی ترقی، استحکام اور خوشحالی حاصل کرے۔
جاپان نے نہ صرف صنعتی اور سائنسی میدان میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کیں بلکہ ادب، ثقافت اور علم کے ذریعے بھی دنیا میں اپنی منفرد پہچان قائم کی۔ جاپانی قوم اس حقیقت پر یقین رکھتی ہے کہ قوموں کے درمیان تعلقات صرف تجارت یا سیاست سے نہیں بلکہ ادب، زبان اور ثقافتی ہم آہنگی سے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔
اسی سوچ کے تحت 2008ء میں نیپون فاؤنڈیشن نے “Read Japan Project” کے نام سے ایک منفرد منصوبے کا آغاز کیا جس کا مقصد دنیا بھر میں ادب اور علمی مواد کے ذریعے جاپان کے بارے میں عالمی تفہیم کو فروغ دینا تھا۔ اس منصوبے کے تحت مختلف ممالک کی جامعات اور لائبریریوں کو جاپان سے متعلق اہم کتب فراہم کی جاتی ہیں تاکہ طلبہ، اساتذہ اور محققین جاپانی تاریخ، سیاست، معیشت، ثقافت اور فلسفے کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔
اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی اس وقت سامنے آئی جب پاکستان میں جاپان کے سفیر آکاماتسو شوئیچی نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں “جاپان۔پاکستان ترقیاتی مرکز” کے افتتاح کے موقع پر یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری کو انگریزی زبان کی 168 قیمتی کتابوں کا تحفہ پیش کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے یہ علمی ذخیرہ وصول کیا۔
یہ کتابیں جاپان کی تاریخ، سیاست، معیشت، سلامتی، بین الاقوامی تعلقات، فلسفہ، ادب، زبان اور ثقافت سمیت متعدد موضوعات پر مشتمل ہیں۔ بلاشبہ یہ اقدام نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی و ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ پاکستانی طلبہ کے لیے جاپان کی ترقی کے راز جاننے کا ایک سنہری موقع بھی فراہم کرے گا۔
افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل ترقی، چوہدری سالک حسین نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کو جدید مہارتوں اور بین الاقوامی زبانوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اُن کے مطابق جاپان۔پاکستان ترقیاتی مرکز اس سلسلے میں ایک مؤثر کردار ادا کرے گا اور پاکستانی نوجوانوں کو عالمی سطح کے مواقع سے جوڑنے میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ یہ مرکز دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی، ثقافتی اور معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔
جاپان کے سفیر آکاماتسو شوئیچی نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور جاپان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو سراہا۔ اُن کا کہنا تھا کہ تعلیمی تعاون مستقبل میں دونوں ممالک کو مزید قریب لائے گا اور یہ مرکز نوجوانوں کو نہ صرف جاپانی زبان سیکھنے کے مواقع فراہم کرے گا بلکہ اُن کی پیشہ ورانہ ترقی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے اس موقع پر کہا کہ یونیورسٹی ہمیشہ جدید تعلیم، تحقیق اور بین الاقوامی روابط کے فروغ کے لیے کوشاں رہی ہے اور جاپان۔پاکستان ترقیاتی مرکز اسی وژن کی عملی تعبیر ہے۔ اُن کے مطابق یہ مرکز طلبہ اور محققین کو جاپانی زبان، ثقافت اور جدید سائنسی و فنی رجحانات سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
آج دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ جاپان کی اصل طاقت صرف اس کی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کی تعلیم، نظم و ضبط، قومی شعور اور کتاب دوستی ہے۔ جاپان نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ تباہی کے بعد بھی اگر قوم کے ارادے مضبوط ہوں تو وہ دوبارہ عروج حاصل کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان صرف ایک ملک نہیں بلکہ ترقی، امید اور علم کا روشن استعارہ بن چکا ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے جاپان کی مثال اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ جاپان نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ اگر قوم کے ارادے مضبوط ہوں، قیادت مخلص ہو اور نوجوان علم و محنت کو اپنا شعار بنا لیں تو ترقی کا سفر کبھی ناممکن نہیں رہتا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی تعلیم، تحقیق، نظم و ضبط اور دیانت داری کو اپنی قومی ترجیحات بنائیں تاکہ پاکستان ترقی اور خوشحالی کی اسی شاہراہ پر گامزن ہو سکے جس کی روشن مثال آج جاپان ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم محض ترقی کے خواب نہ دیکھیں بلکہ جاپان کی طرح عملی جدوجہد، وقت کی پابندی، قومی یکجہتی اور کتاب دوستی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں عروج پاتی ہیں جو علم کو ہتھیار، محنت کو عبادت اور کردار کو اپنی پہچان بنا لیتی ہیں۔ جاپان نے دنیا کو یہ سکھایا کہ ایٹمی تباہی کے بعد بھی اگر قوم کے حوصلے زندہ ہوں تو وہ دوبارہ اٹھ کھڑی ہو سکتی ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم مایوسی کے اندھیروں میں رہنا چاہتے ہیں یا علم، تحقیق اور ترقی کی اُس روشن شاہراہ پر قدم رکھنا چاہتے ہیں جس کی کامیاب مثال آج جاپان پوری دنیا کے سامنے ہے۔
0 تبصرے