انمول عرف پنکی کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی سامنے آگیا، 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

انمول عرف پنکی کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی سامنے آگیا، 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

کراچی (ویب ڈیسک) کراچی کے پوش علاقوں میں منشیات سپلائی کرنے والی ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف گھیرا تنگ کردیا گیا ہے۔ کراچی کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے ملزمہ کو منشیات، غیر قانونی اسلحہ اور ایک نوجوان کے قتل کے مقدمے میں مزید 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزمہ کے خلاف بغدادی تھانے میں 9 مئی کو قتل کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔ مقدمے کے متن کے مطابق ایک نوجوان فٹ پاتھ پر مردہ حالت میں ملا تھا، جس کی جیب سے تفتیش کے دوران نشہ آور اشیا برآمد ہوئی تھیں، جن پر ”پنکی“ کا نام لکھا ہوا تھا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ نوجوان کی موت ملزمہ انمول عرف پنکی کی جانب سے فراہم کردہ انتہائی خطرناک نشہ استعمال کرنے کے باعث ہوئی، جس کے سبب اس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ عدالت میں پیشی کے دوران پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ نہ صرف منشیات فروشی بلکہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور نوجوانوں کی زندگیوں سے کھیلنے میں بھی ملوث ہے۔ عدالت کی جانب سے ریمانڈ ملنے کے بعد پولیس اب بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمے کے سلسلے میں انمول عرف پنکی سے پوچھ گچھ کرے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے نتیجے میں شہر میں منشیات سپلائی کرنے والا ایک بڑا اور خطرناک گروہ بے نقاب ہونے کا امکان ہے۔