ام رباب چانڈیو کی ایس ایس پی قمبر شہدادکوٹ اور مقامی پولیس کیجانب سے ملزمان کی جانبداری کے خلاف ڈی آئی جی لاڑکانہ رینج کو شکایت

ام رباب چانڈیو کی ایس ایس پی قمبر شہدادکوٹ اور مقامی پولیس کیجانب سے ملزمان کی جانبداری کے خلاف ڈی آئی جی لاڑکانہ رینج کو شکایت

​لاڑکانہ/کراچی (بیورو رپورٹ): تہرے قتل کیس کی وارث "دخترِ سندھ" ام رباب چانڈیو نے ایس ایس پی قمبر شہدادکوٹ اور مقامی پولیس کی جانب سے ملزمان کی پشت پناہی اور جانبداری کے خلاف ڈی آئی جی لاڑکانہ رینج کو تحریری شکایت جمع کروا دی ہے۔ شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پولیس مبینہ طور پر قتل کیس میں نامزد ملزمان کی سرپرستی کر رہی ہے۔ ام رباب چانڈیو کے مطابق ان کے والد، دادا اور چچا کے قتل میں نامزد ملزمان نے ان کے کسانوں (سولنگی برادری) پر حملہ کیا، فائرنگ کی اور زرعی مشینری کو نقصان پہنچایا مگر پولیس نے انصاف فراہم کرنے کے بجائے الٹا مظلوم کسانوں پر ہی 10 مئی 2026 کو دفعہ 392/34 کے تحت جھوٹی اور من گھڑت ایف آئی آر درج کر لی ہے تاکہ ان پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ درخواست میں ڈی آئی جی لاڑکانہ سے استدعا کی گئی ہے کہ ہمارے حامیوں پر درج جھوٹی ایف آئی آر خارج کی جائے اور غیرقانونی طور پر جانبداری میں ملوث پولیس افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔ درخواست میں ام رباب کیجانب سے موقف اختيار کیا گیا ہے کہ میرے والد دادا اور چچا کے قتل کیس میں نامزد ملزمان جیل سے رہا ہونے کے بعد ہمارے حمایتیوں کو فون کالز کے ذریعے مسلسل دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ اور 8 مئی کے دن ملزمان نے ان پر بے گناہ حملہ کیا ہے، درخواست میں کہا گیا ہے ملزمان کیجانب سے حملہ کے تمام تر شواہد اور فون کالز کی ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر موجود ہونے کے باوجود مظلوم کسانوں پر من گھڑت ایف آئی آر کا اندراج سراسر ناانصافی ہے، جس کو فوری طور پر خارج کرکے جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے والے پولیس افسران کیخلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے