علی ولا بحریہ ہلز میں قائم ہے، جس میں ہیلی پیڈ اور منی چڑیا گھر بھی شامل ہیں
قومی احتساب بیورو (نیب) نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ملک ریاض کی 67 ایکڑ پر قائم ”علی ولا“ حویلی منجمد کر دی ہے۔
علی ولا بحریہ ہلز میں قائم ہے، جس میں ہیلی پیڈ اور منی چڑیا گھر بھی شامل ہیں۔
نیب نے 1338 ایکڑ زمین بھی منجمد کر دی ہے، جس کے بعد بحریہ گرینز اور مختلف پریسنکٹس کی زمین نیب کی تحویل میں آ گئی ہے۔
اس کارروائی سے پریسنکٹس 33، 34، 38 سے 40، 42 اور 61 متاثر ہوئے ہیں، جبکہ منجمد کی گئی زمین کو سندھ حکومت کی ملکیت قرار دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ بحریہ ٹاؤن 2 کی 3150 ایکڑ زمین بھی منجمد کی گئی ہے، بحریہ ٹاؤن 2 پر محکمہ جنگلات کی زمین استعمال کرنے کا الزام ہے، نیب کے مطابق زمین دھوکے سے خریدی گئی تھی۔
ڈی جی نیب کراچی نے علیحدہ حکم نامہ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو تیسرے فریق کے نام پر منتقلی روکنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ بحریہ ٹاؤن کراچی کو زمین کی فروخت یا ٹرانسفر سے بھی روک دیا گیا ہے۔
نیب کا ریفرنس نمبر 1/2025 احتساب عدالت کراچی میں دائر کر دیا گیا ہے۔
نیب کے مطابق 17 ہزار 672 ایکڑ سرکاری زمین میں گھپلوں کا الزام ہے، جس کی مالیت 708 ارب روپے بتائی جا رہی ہے۔
سندھ حکومت کے بعض اہلکاروں کی ملی بھگت سے ایم 9 موٹر وے کے قریب بحریہ ٹاؤن تعمیر کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
0 تبصرے