کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی ڈاک لیبر بورڈ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے “معرکہ حق” کا پہلا سال مکمل ہونے کے موقع پر ایک پروقار اور جذبہ حب الوطنی سے بھرپور تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مزدور رہنماؤں، یونین عہدیداران اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں افواجِ پاکستان، پاک فضائیہ اور ملکی دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
تقریب سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کنوینر احمد سعید، کراچی ڈاک لیبر بورڈ (سی بی اے) کے جنرل سیکرٹری داؤد مہمند، سرپرستِ اعلیٰ حسین کھچی، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر عبدالرزاق میمن، پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کے چیئرمین اور مسلم لیگ (ق) سندھ کے جنرل سیکریٹری کنور ارشد علی خان سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ “معرکہ حق” پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک سنہری باب ہے، جس نے دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ صورتحال کے دوران پاک فضائیہ نے غیر معمولی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور شاندار حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔
پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کے چیئرمین اور مسلم لیگ (ق) سندھ کے جنرل سیکریٹری کنور ارشد علی خان نے کہا کہ پاکستانی افواج نے ہمیشہ قوم کی امنگوں کے مطابق ملک کا دفاع کیا ہے اور “معرکہ حق” میں حاصل ہونے والی کامیابی دشمن کے ناپاک عزائم کے خلاف ایک واضح پیغام تھی۔ انہوں نے کہا کہ مزدور طبقہ ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑا ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کنوینر احمد سعید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی ڈاک لیبر بورڈ کے ورکرز ہمیشہ افواجِ پاکستان کے ساتھ ہر محاذ پر کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی ملکی دفاع، سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بقا، ترقی اور خوشحالی کے لیے قومی اتحاد ناگزیر ہے۔
تقریب کے شرکاء نے افواجِ پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملکی دفاع اور سلامتی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور شہداء کے بلند درجات کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
0 تبصرے