نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نپا) کراچی میں بنگلہ دیش سے آئے ہوئے سینئر سول سروس افسران کے وفد کے دورے کا دوسرا روز

پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ایک تاریخی اور نہایت اہم پیش رفت

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نپا) کراچی میں بنگلہ دیش سے آئے ہوئے سینئر سول سروس افسران کے وفد کے دورے کا دوسرا روز

کراچی، پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ایک تاریخی اور نہایت اہم پیش رفت کے طور پر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نپا) کراچی میں آج بنگلہ دیش سے آئے ہوئے سینئر سول سروس افسران کے وفد کے دورے کا دوسرا روز منعقد ہوا۔ یہ گزشتہ 55 برسوں میں بنگلہ دیشی سول سرونٹس کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے، جسے دوطرفہ ادارہ جاتی روابط میں ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے اور مثبت باب کے آغاز کی علامت ہے اور باہمی مکالمے، سیکھنے کے عمل اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ 12 رکنی بنگلہ دیشی سینئر سول سروس افسران کے وفد کا نپا کراچی میں پرتپاک استقبال ریکٹر نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی (این ایس پی پی) جناب فرحان عزیز خواجہ اور ڈائریکٹر جنرل نپا کراچی ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کیا۔ انہوں نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے بنگلہ دیش کے ساتھ پیشہ ورانہ اور ادارہ جاتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دن کے پروگرام کے دوران وفد نے پاکستان کے مختلف نمایاں اداروں کی جانب سے دی گئی پریزنٹیشنز میں شرکت کی، جن میں تعلیم، صحت اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ادارے شامل تھے، جیسے دی سٹیزنز فاؤنڈیشن (TCF)، سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT)، انڈس ہسپتال، ضیاءالدین ہسپتال اور اورنگی پائلٹ پراجیکٹ۔ ان سیشنز میں پاکستان میں خدمات کی فراہمی کے جدید ماڈلز اور عوامی فلاح و بہبود پر مبنی اقدامات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریکٹر این ایس پی پی جناب فرحان عزیز خواجہ نے پاکستان میں سول سروس قیادت اور تربیت کے فلسفے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی اور اس کے ذیلی اداروں کا مقصد صرف سرکاری افسران کو تربیت دینا نہیں بلکہ اصول پسند، باصلاحیت اور وژنری عوامی رہنما تیار کرنا ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی کے علمبردار بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سول سرونٹس کو روایتی انتظامی فرائض سے آگے بڑھ کر اداروں کی تشکیل، عوامی بیانیے پر اثرانداز ہونے اور پیشہ ورانہ مہارت، دیانتداری اور وژن کے ذریعے معاشرتی ترقی میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک بہترین سرکاری افسر وہ ہوتا ہے جو بدلتی ہوئی حکومتوں کے باوجود آئینی اقدار، ادارہ جاتی تسلسل اور عوامی فلاح کے لیے اپنی وابستگی برقرار رکھے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے دن بھر کی پریزنٹیشنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیش کیے گئے ادارے "خدمتِ خلق" کے جذبے کی عملی مثال ہیں، جو سول سروسز اکیڈمی اور نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی کی بنیادی روح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں کا کام اس بات کا ثبوت ہے کہ بصیرت افروز قیادت، جدت اور عوامی خدمت کا جذبہ معاشروں کو بدل سکتا ہے اور قومی ترقی کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔ انہوں نے مرحوم ڈاکٹر اختر حمید خان کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کو نچلی سطح پر عوامی شمولیت اور بااختیار بنانے کی ایک مثالی مثال قرار دیا۔ نپا کراچی میں بنگلہ دیشی وفد کی یہ مصروفیات پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتے ہوئے خیرسگالی اور اسٹریٹجک ہم آہنگی کی علامت سمجھی جا رہی ہیں۔ یہ دورہ نہ صرف ادارہ جاتی روابط کو فروغ دے رہا ہے بلکہ ایک ایسے مستقبل کی نوید بھی ہے جو مشترکہ تاریخ، باہمی احترام اور جنوبی ایشیا میں امن، خوشحالی اور تعاون پر مبنی ترقی کے مشترکہ وژن پر قائم ہے