عام طور پر ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ، فالج یا دماغی شریانوں میں رکاوٹ (اسٹروک) کے باعث مریض چلنے پھرنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ملک میں آج بھی ہزاروں افراد ایسے ہیں جو معذوری کے باعث بستر تک محدود ہو کر مجبوری کی زندگی گزار رہے ہیں۔
دماغی شریانوں میں رکاوٹ اور فالج کے علاج کے لیے مختلف ایجادات اور طبی سہولیات متعارف کرائی جا چکی ہیں، جن سے ایسے مریضوں کی مشکلات میں کسی حد تک کمی آئی ہے، تاہم اب تک ایسا کوئی مؤثر علاج دستیاب نہیں تھا جو انہیں مکمل طور پر صحت یاب کرکے دوبارہ معمول کے مطابق چلنے پھرنے کے قابل بنا سکے۔ لیکن جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) نے اب اس ناممکن کو ممکن بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا ہے۔
انسانی صحت کے شعبے میں ایک انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ماہرین نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک ایسا آلہ تیار کیا ہے جس کا بنیادی مقصد دماغی سگنلز کو ریکارڈ کرکے انہیں ایسے احکامات میں تبدیل کرنا ہے جو جسم کے متاثرہ حصوں کو دوبارہ حرکت کرنے کے قابل بنا سکیں۔ یہ ٹیکنالوجی ان مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے جو ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ یا دماغی شریانوں میں رکاوٹ کے باعث معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یہ آلہ دماغی سگنلز کو پڑھنے اور ان پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مریض کے دماغ میں نصب خصوصی سینسرز اعصابی نظام سے خارج ہونے والے سگنلز کو ریکارڈ کرتے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت ان سگنلز کا تجزیہ کرکے انہیں ایسے احکامات میں تبدیل کرتی ہے جو جسم کے متاثرہ اعضا کو حرکت دینے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح دماغ اور متاثرہ اعضا کے درمیان منقطع رابطہ دوبارہ بحال ہونے لگتا ہے۔
یہ ڈیوائس معذور افراد کو دوبارہ خودمختار زندگی گزارنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر کوئی مریض چلنے پھرنے سے مکمل طور پر محروم ہو اور اپنی ٹانگیں بھی حرکت نہ دے سکتا ہو تو یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں اسے دوبارہ چلنے بلکہ دوڑنے کے قابل بھی بنا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ نہ صرف جسمانی بحالی میں مددگار ہوگی بلکہ مریض کی ذہنی کیفیت میں بھی نمایاں بہتری لا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ڈیوائس صرف فالج کے مریضوں ہی کے لیے مفید نہیں ہوگی بلکہ مستقبل میں پارکنسنز، ملٹیپل اسکلروسس اور دیگر اعصابی بیماریوں کے علاج میں بھی اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔
اگرچہ یہ ٹیکنالوجی طبی دنیا میں ایک انقلابی پیش رفت ہے، تاہم اس کی لاگت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر مریض اس کے بھاری اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ جب یہ ٹیکنالوجی عام ہوگی تو اس کی قیمت میں بھی کمی آئے گی، جس سے زیادہ سے زیادہ مریض اس سے مستفید ہو سکیں گے۔
0 تبصرے