گردوں کی خرابی کی بعض ایسی علامات ہوتی ہیں جنہیں اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اگر آپ کو گردوں سے متعلق کسی بھی قسم کی تکلیف یا شبہ محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرکے ضروری معائنہ کروائیں، کیونکہ بروقت تشخیص اور علاج زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ گردوں کی بیماریاں صحت کے اہم مسائل میں شامل ہیں، لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ ان کے بارے میں مکمل آگاہی نہیں رکھتے۔
آج ہم آپ کو گردوں کی خرابی کی سات اہم علامات بتا رہے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک علامت بھی ظاہر ہو تو اپنے گردوں کا طبی معائنہ ضرور کروائیں، کیونکہ گردے بازار میں نہیں ملتے۔
گردوں کی خرابی کی علامات
پیشاب میں تبدیلیاں
اگر پیشاب بار بار اور تھوڑی مقدار میں آئے، اس سے تیز بدبو آئے، پیشاب کا رنگ سرخ یا سیاہ ہو جائے، یا اس میں پیپ یا خون شامل ہو تو یہ گردوں کی خرابی کی اہم علامات ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں تاخیر کیے بغیر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
کمزوری اور عمومی جسمانی علامات
بار بار بخار آنا، جسم میں درد، متلی یا قے، جسم کا مسلسل کمزور اور دبلا ہونا، زیادہ پیاس لگنا، سر درد اور نیند نہ آنا بھی گردوں کی بیماری کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ ایسی علامات ظاہر ہونے پر طبی معائنہ ضروری ہے۔
کمر کے نچلے حصے میں درد
کمر کے نچلے حصے میں درد یا تکلیف گردوں کی خرابی کی عام علامت ہے۔ یہ درد ایک یا دونوں اطراف محسوس ہو سکتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو درد بڑھ کر دونوں گردوں تک پھیل سکتا ہے، جبکہ بعض اوقات گردوں کے اطراف یا اوپری حصے میں بھی درد محسوس ہوتا ہے۔
جسم میں سوجن
جب گردے صحیح طریقے سے کام نہیں کرتے تو جسم سے اضافی پانی اور فاضل مادے خارج نہیں ہو پاتے، جس کے باعث جسم میں سوجن آ جاتی ہے۔ یہ سوجن ہاتھوں، پاؤں، ٹانگوں، ٹخنوں اور چہرے پر ظاہر ہو سکتی ہے۔ بیماری بڑھنے کی صورت میں یہ کیفیت پھیپھڑوں تک بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
جلد کے مسائل
گردوں کی کمزور کارکردگی کے باعث جسم میں زہریلے مادے جمع ہونے لگتے ہیں، جس سے جلد خشک ہو سکتی ہے، خارش، دانے یا دیگر جلدی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ گھریلو ٹوٹکے وقتی آرام تو دے سکتے ہیں، لیکن اصل بیماری کا علاج نہیں کرتے۔
خون کی کمی
گردے ایک اہم ہارمون ایریتھروپوئیٹن (Erythropoietin) بناتے ہیں، جو ہڈیوں کے گودے کو سرخ خون کے خلیات بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اگر گردے صحیح کام نہ کریں تو اس ہارمون کی کمی کے باعث خون کی کمی (انیمیا) اور آئرن کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں شدید تھکن، کمزوری اور گرمی کے موسم میں بھی سردی محسوس ہونے جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔
منہ کا خراب ذائقہ اور بدبو
اگر کھانے کا ذائقہ بدل جائے، منہ میں مستقل بدذائقگی یا بدبو محسوس ہو، گوشت کھانے کی خواہش ختم ہو جائے یا بھوک کم ہونے کے باعث وزن تیزی سے کم ہونے لگے تو یہ بھی گردوں کی خرابی کی ممکنہ علامات ہو سکتی ہیں۔
گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے مفید مشورے
روزانہ مناسب مقدار میں صاف پانی پئیں۔
تمباکو اور سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز کریں۔
روزانہ ورزش یا کم از کم ہلکی جسمانی سرگرمی کو معمول بنائیں۔
کافی، چاکلیٹ اور زیادہ چینی والی اشیاء کا استعمال محدود رکھیں۔
کرین بیری (Cranberry) کا جوس مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
بہت زیادہ ٹھنڈی اشیاء اور ٹھنڈے مشروبات سے پرہیز کریں۔
متوازن غذا اختیار کریں، جس میں مناسب مقدار میں پروٹین، کاربوہائیڈریٹس اور صحت مند چکنائیاں شامل ہوں۔
ضرورت سے زیادہ کھانے اور رات گئے کھانا کھانے سے گریز کریں۔
نوٹ: مذکورہ علامات صرف گردوں کی بیماری سے متعلق نہیں ہوتیں، بلکہ دیگر طبی مسائل میں بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی علامت موجود ہو تو خود علاج کرنے کے بجائے مستند ڈاکٹر یا ماہر امراضِ گردہ سے مشورہ اور ضروری طبی معائنہ ضرور کروائیں۔
0 تبصرے