واشنگٹن ڈی سی (ویب ڈیسک) امریکی میڈیا نے امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے اہم نکات سامنے لا دیے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا، ایران کسی بھی قسم کی فیس وصول نہیں کرے گا اور اپنی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگیں بھی ہٹا دے گا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بدلے میں امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے گا اور ایران کو تیل کی آزادانہ فروخت کی اجازت دی جائے گی۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی اہم تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جبکہ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ سب کچھ معاہدے کے تحت جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع کے دوران عمل میں لایا جائے گا۔
امریکی عہدیدار کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں یہ وعدہ بھی شامل ہوگا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، جبکہ یورینیم افزودگی پروگرام کی معطلی اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کے خاتمے سے متعلق بھی بات چیت کی جائے گی۔ امریکی عہدیدار کے مطابق حال ہی میں تعینات امریکی فوجیں خطے میں موجود رہیں گی اور حتمی معاہدہ ہونے کی صورت میں واپس چلی جائیں گی، جبکہ مسودے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کرانے کا ذکر بھی شامل ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس پرامید ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں باقی ماندہ اختلافات ختم کر لیے جائیں گے اور اتوار ہی کو معاہدے کا اعلان کیا جائے گا، تاہم ایران کی جانب سے تاحال مسودے کی تفصیلات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
0 تبصرے