ایران کے خلاف جنگ میں ٹرمپ تنہا، اتحادیوں نے مدد سے انکار

ایران کے خلاف جنگ میں ٹرمپ تنہا، اتحادیوں نے مدد سے انکار

تہران / واشنگٹن / لندن (م ڈ): ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی جاری ہے، جبکہ برطانیہ، جاپان اور آسٹریلیا سمیت امریکہ کے پرانے اتحادیوں نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل پر مدد سے انکار کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے ایران کے شہروں اصفہان اور شیراز پر میزائلوں اور بموں سے حملے کیے، جن کے نتیجے میں ابتدائی رپورٹس کے مطابق 15 افراد شہید ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی، علاقائی سفارتکاری اور نئے سیکیورٹی واقعات کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے آبنائے ہرمز کے لیے جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ امریکہ چین سمیت کئی ممالک سے اس سمندری راستے کے تحفظ کے لیے رابطے کر رہا ہے۔ دوسری جانب ایران سے مذاکرات کے بعد بھارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے شہروں تہران، شیراز اور تبریز پر “بڑے پیمانے” پر حملوں کی نئی لہر شروع کر دی ہے۔ ٹیلگرام پر جاری بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ آئی ڈی ایف (Israel Defense Forces) نے ایرانی حکومت کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے ان شہروں میں وسیع حملے شروع کیے ہیں۔ برطانوی اخبار کے مطابق برطانیہ نے بھی آبنائے ہرمز کے لیے بحری جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے صدر ٹرمپ کی مدد کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اس کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جتنی جلد جنگ ختم ہوگی، اتنی ہی آسانی ہوگی۔ جاپان کی وزارتِ دفاع اور آسٹریلیا کی حکومت نے بھی آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے اپنے جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کیا ہے۔ آسٹریلیا کی وزیرِ ٹرانسپورٹ کیتھرین کنگ نے کہا کہ ان کا ملک جنگی جہاز بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ جاپان کے وزیرِ دفاع شنجیرو کوئزومی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر جاپان میری ٹائم سیکیورٹی آپریشن شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اور اتحادی ممالک سے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے بحری جہاز بھیجنے کی اپیل کی تھی۔ برطانیہ کے وزیر برائے ورک اینڈ پنشن پیٹ مک فیڈن نے کہا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے نیٹو کی جنگ نہیں ہیں، اور نیٹو اتحاد کو اس طرح کی صورتحال کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔ نیٹو 1949 میں امریکہ اور برطانیہ سمیت 12 ممالک نے قائم کیا تھا، اور اس کا اہم اصول آرٹیکل فائیو ہے جس کے تحت ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران سے مذاکرات کر رہا ہے، تاہم انہیں نہیں لگتا کہ ایران بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نیٹو نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ کی تو اتحاد کا مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اس ماہ کے آخر میں چینی صدر سے طے شدہ ملاقات ملتوی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے تقریباً سات ممالک سے بات چیت کی گئی ہے، اور چین سمیت کئی ممالک سے مدد کے بارے میں پوچھا گیا ہے، کیونکہ یہ اہم تجارتی راستہ ہے اور چین بھی اس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔